ازبکستان میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ

ازبکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے غیر ملکی طلبہ کے لیے تیزی سے پرکشش بنتے جا رہے ہیں۔ نیشنل سٹیٹسٹکس کمیٹی کے مطابق، جنوری تا جون 2025 کے دوران 9500 غیر ملکی طلبہ نے تعلیم کے لیے ازبکستان کا رخ کیا۔

یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 1400 طلبہ زیادہ ہے، جو 17.3 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، بھارت غیر ملکی طلبہ کی سب سے بڑی بھیجنے والی ریاست کے طور پر ابھرا ہے، جہاں سے 2780 طلبہ ازبکستان آئے۔

اس کے بعد ترکمانستان سے 2622 طلبہ، تاجکستان سے 1145، چین سے 459، جنوبی کوریا سے 381، پاکستان سے 348، امریکہ سے 232، افغانستان سے 167، اور ترکیہ سے 161 طلبہ ازبک جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں۔
مزید برآں، 988 طلبہ دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے بین الاقوامی طلبہ کی مجموعی تعداد 9500 تک پہنچ گئی ہے۔

بین الاقوامی تعلیمی ذرائع کے مطابق، ازبکستان میں خاص طور پر جنوبی ایشیائی طلبہ کی دلچسپی میں حالیہ برسوں کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ وہاں کی کم فیس، معیاری تعلیم، اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی درجہ بندی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ازبکستان بہت جلد وسطی ایشیا کا ایک مرکزی تعلیمی مرکز بن کر ابھر سکتا ہے، جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے طلبہ کے لیے نہایت موزوں آپشن بنتا جا رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں