انڈونیشیا کا غزہ امن منصوبے کے تحت ہزاروں فوجیوں کو تربیت دینے کا آغاز، عوام کے تحفظات

انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی امن مشن کے لیے پانچ سے آٹھ ہزار تک فوجیوں کو تربیت دے رہا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔

انڈونیشیا اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں حصہ لینے والے بڑے ممالک میں شامل رہا ہے اور لبنان سمیت مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ غزہ کے لیے انسانی امداد اور ایک اسپتال کی مالی معاونت میں بھی انڈونیشیا سرگرم رہا ہے۔ تاہم ملک کے اندر صدر پرابوو سوبیانتو کے اس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جس “بورڈ آف پیس” اور بین الاقوامی سکیورٹی فورس میں شمولیت کی بات ہو رہی ہے، اس کے اختیارات اور طریقہ کار واضح نہیں ہیں کیونکہ یہ اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار سے باہر کام کرے گی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں انڈونیشین فوج کسی ایسے کردار میں نہ چلی جائے جو اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی بالواسطہ حمایت کے مترادف ہو۔

گزشتہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق، یہ مجوزہ فورس غزہ میں فلسطینی پولیس کی مدد کرے گی اور سرحدی علاقوں کی نگرانی میں اسرائیل اور مصر کے ساتھ کام کرے گی، مگر اس کی مالی ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ اطلاعات کے مطابق، بورڈ میں مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر تک کی ادائیگی بھی زیر غور ہے، جس پر بعض حلقوں نے سخت تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بورڈ میں شمولیت کا مقصد فلسطینی مفادات کا دفاع کرنا اور دو ریاستی حل کی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق، اگر اسرائیل بورڈ میں شامل ہے تو فلسطینی مؤقف کی نمائندگی کے لیے انڈونیشیا کی موجودگی ضروری ہے۔

دوسری جانب ملک میں احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ جکارتہ میں امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرین نے اس فیصلے کے خلاف نعرے لگائے۔ ایک آن لائن درخواست میں بھی بورڈ سے دستبرداری کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر ہزاروں افراد دستخط کر چکے ہیں۔

انڈونیشین فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگرچہ مشن کی نوعیت سے متعلق مکمل ہدایات موصول نہیں ہوئیں، تاہم ممکنہ طور پر انجینیئرنگ اور طبی یونٹس سمیت مختلف شعبوں کے اہلکاروں کی تربیت شروع کر دی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں انڈونیشیا کو ایک معتدل اور قابلِ قبول ملک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہونے کے باوجود اسرائیل کے خلاف سخت محاذ آرائی سے گریز کرتا رہا ہے۔ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں مزید ممالک کی جانب سے بھی فوجی دستے فراہم کرنے کے اعلانات متوقع ہیں، جب کہ صدر پرابوو سوبیانتو اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں