بھارت کا ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ

بھارت نے دفاعی میدان میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس تجربے کو بھارت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے بھارت دنیا کے ان چند ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے۔

ڈی آر ڈی او کا اعلان: طویل فاصلے تک درستگی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت

بھارت کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے مطابق، اس جدید میزائل کا تجربہ کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ ڈی آر ڈی او نے کہا کہ میزائل 1500 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کی پرواز کے دوران جمع کیے گئے ڈیٹا سے تجربے کی کامیابی کی تصدیق ہوئی ہے۔

بھارت کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ

راج ناتھ سنگھ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی بھارت کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور یہ دفاعی شعبے میں ایک نیا باب کھولتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بھارت کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

علاقائی تناؤ میں اضافہ

بھارت کے اس حالیہ تجربے نے خطے میں دفاعی مسابقت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی دنیا کے چند ممالک کے پاس موجود ہے، جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز رفتار سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت روایتی دفاعی نظاموں کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

غیر ملکی ردعمل

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق، بھارت کی جانب سے اس تجربے کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ دفاعی پیشرفت خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

بھارت کے اس تجربے کے بعد عالمی برادری کی نظریں اب اس پر مرکوز ہیں کہ دیگر ممالک اس پیشرفت کا کیا ردعمل دیں گے اور کیا اس سے علاقائی امن و امان پر منفی اثرات مرتب ہوں گے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں