بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیدائش پر حق شہریت ختم کرنے کے اعلان کے بعد امریکا میں مقیم بھارتی جوڑے قبل از وقت بچوں کی پیدائش کرانے لگے ہیں۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 20 فروری کو یہ قانون نافذ ہونے کی آخری تاریخ ہے، جس کے باعث امریکا کے اسپتالوں میں سی سیکشن کی درخواستوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ قبل از وقت پیدائش ماں اور بچے دونوں کے لیے جان لیوا خطرات پیدا کر سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود جوڑے خوف کے مارے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ قانون کے نفاذ سے پہلے بچوں کی پیدائش ممکن بنائی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں متعدد افراد بھارتی جوڑوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ یا تو بھارت واپس چلے جائیں یا کسی اور ملک منتقل ہو جائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت امریکا میں پیدائش پر حق شہریت ختم کر دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق 19 فروری تک پیدا ہونے والے بچے ہی امریکی شہریت کے حقدار ہوں گے۔
یہ صورتحال امریکا میں موجود بھارتی کمیونٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، جہاں والدین اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے ایسے خطرناک فیصلے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔