بھارت حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملکی دفاعی صنعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے قواعد میں نرمی کرنے والا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی دفاعی پیداوار کو بڑھانا اور گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ ہونے والے مختصر مگر شدید تصادم کے بعد دفاعی استعداد کو مضبوط کرنا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ، موجودہ لائسنس یافتہ دفاعی کمپنیوں کے لیے خودکار طریقہ کار (آٹومیٹک روٹ) کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد کو 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کیا جائے گا۔ اس سے غیر ملکی کمپنیاں بھارتی منصوبوں میں زیادہ حصص لے سکیں گی اور جدید ٹیکنالوجی کا حصہ بھی فراہم کر سکیں گی۔
اس کے علاوہ دیگر رکاوٹیں بھی ختم کی جائیں گی، جن میں وہ شرط شامل ہے کہ 74 فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ “جدید ٹیکنالوجی تک رسائی” فراہم کرے۔ ماہرین کے مطابق یہ شرط مبہم تھی اور اب اس کو ہٹا کر سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے گا۔
مزید یہ کہ مکمل طور پر برآمدی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیوں کو اب ملکی دیکھ بھال اور سپورٹ مراکز قائم کرنے کی شرط سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس تبدیلی سے غیر ملکی سرمایہ کار بھارت میں کاروبار کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے اور ملکی دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
اب تک بھارت میں غیر ملکی دفاعی سرمایہ کاری محدود رہی ہے۔ گزشتہ 25 سال میں صرف 26.5 ملین ڈالر غیر ملکی سرمایہ کاری کے طور پر آئے، جبکہ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری 765 ارب ڈالر تھی۔ حکومت نے دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، اور مالی سال 2026/27 کے لیے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔
بھارت نے گزشتہ سال دفاعی پیداوار تقریباً دگنا کر کے 33.25 ارب ڈالر تک بڑھانے اور دفاعی برآمدات کو 2029 تک 5.5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ دفاعی برآمدات میں 2024/25 میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.6 ارب ڈالر تک پہنچیں، جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔ اس اقدام سے بھارت عالمی سطح پر بڑی ہتھیار درآمد کنندہ کی حیثیت سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے