بھارت نے الیکٹرانکس کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق الیکٹرانک پرزہ جات کی مقامی تیاری بڑھانے کے لیے چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ملک میں صنعت کو فروغ دینا اور بیرونی درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایجنسی رائٹرز کے مطابق ان منصوبوں میں کئی معروف عالمی اور ملکی کمپنیاں شامل ہیں جن میں سام سنگ الیکٹرانکس، ٹاٹا الیکٹرانکس اور فاکس کن جیسے بڑے نام بھی موجود ہیں۔ یہ کمپنیاں حکومتی مراعات کے تحت موبائل فونز کے خول، کیمرہ کے پرزے اور دیگر اہم الیکٹرانک اجزا تیار کریں گی۔
خبر رساں ادارے ایجنسی رائٹرز کے مطابق بھارتی حکومت گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مختلف ترغیبی اسکیمیں متعارف کرا رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مقامی صنعت کو وسعت دینا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے تاکہ بھارت عالمی سطح پر ایک مضبوط مینوفیکچرنگ مرکز بن سکے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک بھارت میں الیکٹرانکس مصنوعات کی پیداوار ایک سو پچیس ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2031 تک اس شعبے کی مجموعی مالیت پانچ سو ارب ڈالر تک بڑھائی جائے۔
بھارتی وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ منظور شدہ یہ منصوبے ملک کی آٹھ مختلف ریاستوں میں لگائے جائیں گے، جن کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو روزگار ملنے کی توقع ہے۔ ان منصوبوں سے نہ صرف مقامی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ بھارت کی ٹیکنالوجی صنعت کو بھی نئی سمت ملے گی