تجارتی معاہدہ طے پانے کے بعد بھارت اور امریکا کے درمیان قیمتی معدنیات کے شعبے میں تعاون پر بات چیت

بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں اعلیٰ سطح مذاکرات ہوئے ہیں جن میں قیمتی معدنیات کے شعبے میں تعاون، تجارت اور تزویراتی تعلقات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ مذاکرات منگل کی شب دونوں ممالک کے درمیان ایک دوطرفہ تجارتی معاہدہ طے پانے کے بعد ہوئے۔

واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ برسوں میں بہتر ہونے والے تعلقات متاثر ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے روابط بھارت سے منسلک نہیں ہیں۔ مبصرین کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی پیش رفت نے امریکی پالیسی میں پاکستان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے اور واشنگٹن پاکستان کو ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ان مذاکرات کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی، جو تین روزہ سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں۔ ملاقات میں ہند-بحرالکاہل خطے میں اقتصادی اور تزویراتی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بات چیت کی گئی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اہم معدنیات کی تلاش، کان کنی اور پروسیسنگ کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو باضابطہ شکل دینے پر تبادلہ خیال کیا، جو عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں اور توانائی کے متبادل ذرائع کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے تناظر میں نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

یہ ملاقات بدھ کو ہونے والے پہلے اہم معدنیات سے متعلق وزارتی اجلاس سے قبل ہوئی، جبکہ اسی دوران امریکہ اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تجارتی معاہدہ بھی طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر عائد محصولات تقریبا ایک سالہ مذاکرات کے بعد کم کر کے 18 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی بیان کے مطابق، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں جمہوری ممالک کو مل کر اقتصادی مواقع پیدا کرنے اور توانائی کے تحفظ کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانا چاہیے۔

مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیرِ خارجہ سے اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے پر گفتگو کی، جبکہ تجارتی معاہدے کو بھی سراہا۔

دوسری جانب ایس جے شنکر نے اپنی پوسٹ میں ملاقات کو جامع اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق بھارت اور امریکہ کے تزویراتی شراکتی تعلقات میں تجارت، توانائی، جوہری تعاون، دفاع، اہم معدنیات اور ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہیں اور ان معاملات پر پیش رفت کے لیے مختلف فورمز کے جلد انعقاد پر اتفاق ہوا ہے۔

ملاقات میں دونوں ممالک نے کواڈ (Quadrilateral Security Dialogue) کے تحت دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا، جس میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایک مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطہ مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔

پاکستان بھی اس اہم معدنیات سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔ اس شرکت کو پاکستان کی جانب سے خود کو تزویراتی معدنیات میں سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ اعتماد ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد امریکہ کے شراکت داروں کے ساتھ تقریبا 50 کروڑ ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر چکا ہے، جن کا مقصد اہم معدنیات کی ترقی اور پروسیسنگ میں تعاون ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں