ازبکستان میں ان دنوں فٹبال کے غیر معمولی جوش و خروش کا ماحول ہے، جہاں قومی ٹیم کی کامیابی نے ملک بھر میں جشن کا سماں پیدا کر دیا ہے۔
دارالحکومت تاشقند میں شائقین نے قومی ٹیم کے اعزاز میں بھرپور استقبال کیا۔ کھلاڑیوں نے اسٹیڈیم میں چکر لگا کر مداحوں کو خوش آمدید کہا جبکہ شہر بھر میں قومی پرچم اور روشنیوں سے سجی عمارتیں اس جوش کی عکاسی کرتی رہیں۔
ازبکستان کو روایتی طور پر فٹبال کی دنیا میں بڑی طاقت نہیں سمجھا جاتا، تاہم پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا ایک تاریخی کامیابی ہے۔ وینزویلا کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں پینلٹی شوٹ آؤٹ سے فتح کے بعد شائقین نے اپنی ٹیم کو الوداعی خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ ورلڈ کپ سے قبل ہوم گراؤنڈ پر آخری میچ تھا۔
یہ کامیابی نہ صرف کھیل کے میدان میں اہم ہے بلکہ ملک کی بدلتی ہوئی شناخت کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے۔ 2016 میں سابق صدر اسلام کریموف کے انتقال کے بعد شوکت مرزائیوف کی قیادت میں اصلاحات کے نتیجے میں ملک میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جن میں معیشت، سیاحت اور سماجی آزادیوں میں بہتری شامل ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ملک میں عوامی زندگی میں مثبت تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
فٹبال کی ترقی بھی اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔ حکومت نے نوجوانوں کی سطح پر اکیڈمیز قائم کیں، ہزاروں چھوٹے فٹبال میدان بنائے اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بھی کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ازبکستان کی جونیئر ٹیمیں گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں۔
قومی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی عبدالقادر خوسانوف کو ملک میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یورپی فٹبال لیگوں کی مقبولیت بھی نوجوانوں میں بڑھ رہی ہے۔
ازبکستان کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں پرتگال اور کولمبیا جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا ہو گا، تاہم ٹیم کے کوچ فابیو کیناوارو کا کہنا ہے کہ کھلاڑی بغیر خوف کے میدان میں اتریں گے اور بھرپور مقابلہ کریں گے۔
فٹبال ماہرین کے مطابق یہ کامیابی محض ایک آغاز ہے اور ازبکستان مستقبل میں عالمی کھیلوں کے نقشے پر مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔