اگر پیٹرو ڈالر آبنائے ہرمز میں غرق ہو گیا تو

مشرقِ وسطیٰ کی زمین ایک بار پھر بارود کی بو سے بوجھل ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی محض چند میزائلوں یا ڈرون حملوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام کی زچگی کا وقت معلوم ہوتا ہے۔ آج جب ہم اس مثلث کے ٹکراؤ کو دیکھتے ہیں، تو سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک پہنچی ہے، بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جنگ کا ایندھن وہ ”پیٹرو ڈالر“بنے گا جس نے دہائیوں سے امریکی بالادستی کو قائم رکھا ہوا ہے؟جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تنازع آبنائے ہرمز اور پیٹرو ڈالر کے مستقبل تک جا پہنچا ہے، تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ محض اخباری سرخی نہیں بلکہ ایک وجودی چیلنج بن چکا ہے۔

پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث اس مثلث کے عین وسط میں واقع ہے،جہاں سے اٹھنے والی ہر لہر ہمارے ساحلوں سے ٹکراتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں سے اٹھنے والی جنگ کی چنگاریاں اب محض علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری یہ کشیدگی اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ شاید مسدود ہو چکا ہے۔یوں تو اس جنگ کا سب سے بڑا نشانہ عالمِ اسلام کو ڈبو دینا ہے لیکن ”پیٹرو ڈالر“ نظام بھی ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں غرق ہوتے دکھائی پڑتا ہے۔جس نظام نے نصف صدی سے زائد عرصے تک عالمی معیشت کی نبض کو واشنگٹن کے قبضے میں رکھا ہے۔

امریکہ،اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ نے اب اس ”سائے کی جنگ“ (Shadow War) کو ختم کر دیا ہے جو برسوں سے جاری تھی۔ حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ اب دونوں فریق ایک دوسرے کی ریڈ لائنز عبور کرنے سے نہیں ہچکچا رہے۔ امریکہ جو اسرائیل کاعسکری اسٹریٹجک اتحادی ہے، اب ایک ایسی پوزیشن میں ہے جہاں اسے نہ چاہتے ہوئے بھی اس دلدل سے نکلنا نہیں ہے۔ جنگ اب لبنان، شام اور یمن سے ہوتی ہوئی براہِ راست تہران اور تل ابیب میں لڑی جا رہی ہے۔دنیا کی 20 فیصد سے زائد توانائی کی ترسیل کا راستہ ”آبنائے ہرمز“ آج ایک بارود کے ڈھیر کے نشانے پر ہے۔

اگر ایران اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کا انتہائی قدم اٹھائے رکھتا ہے، تو اس کا پہلا شکار وہ پیٹرو ڈالر معاہدہ ہوگا جو 1979 میں شاہِ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان ہوا تھا۔ ڈالر کی پشت پناہی جب تیل سے ختم ہوگی، تو عالمی منڈی میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگا جسے بھرنے کے لیے چین کا ”یوآن“ اور روس کا ”روبل“ پہلے ہی صف بستہ ہیں۔ ایک اور معاملہ جو انتہائی اہم ہے اور جس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، وہ کنگ سلیمان کا ہے، جو اس وقت پچانوے سال سے زائد کی عمر کے حصے میں ہیں اور طویل علالت میں ہیں۔

اگر خدانخواستہ تاریخ خود کو دوہراتی ہے اور کنگ سلیمان کے بعد دوبارہ عرب تخت کی لڑائی کا شکار ہوتا ہے تو شاید خلیج تقسیم ہو جائے اور دشمن کے قبضے میں چلا جائے جو پہلے ہی معاشی طور پر امریکہ کے پیٹرو ڈالر منصوبے کے تحت پنجے میں ہے۔پاکستان کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک درآمدی تیل پر ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے سپلائی متاثر ہونے سے اور پیٹرو ڈالر کا نظام غیر مستحکم ہونے سے، پاکستان کی معیشت پراثرات فوری اور سنگین پڑے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں کو اس سطح پر لے گیاہے جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ اگر دنیا ڈالر کے متبادل تلاش کرتی ہے، تو پاکستان جیسے ممالک، جن کے پاس پہلے ہی ڈالر کے ذخائر کی کمی ہے، شدید مالیاتی دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ روپے کی قدر میں غیر یقینی کی صورتحال بڑھے گی۔

اگر پیٹرو ڈالر کا منصوبہ آبنائے ہرمز کی لہروں میں غرق ہو جاتا ہے، تو مستقبل کا نقشہ کچھ یوں ہو سکتا ہے۔ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے سے چین (یوآن)، روس (روبل) اور برکس (BRICS) ممالک کی کرنسیوں کو فروغ ملے گا۔ دنیا ایک کرنسی کے بجائے مختلف معاشی بلاکس میں تقسیم ہو جائے گی۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، جس سے عالمی سطح پر ایسی مہنگائی آ سکتی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے اپنی بقا مشکل ہو جائے گی۔ پیٹرو ڈالر کا خاتمہ امریکہ کی ”سافٹ پاور“ اور فوجی اخراجات برقرار رکھنے کی صلاحیت کو براہِ راست متاثر کرے گا۔

یہ واشنگٹن کے لیے صدی کا سب سے بڑا جغرافیائی و سیاسی جھٹکا ہوگا۔ غیر یقینی صورتحال میں دنیا دوبارہ سونے (Gold) یا ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف رجوع کر سکتی ہے تاکہ اپنی دولت کو محفوظ بنا سکے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان سفارتی محاذ پر ہے۔ ایک طرف برادر اسلامی ملک ایران ہے جس کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے، اور دوسری طرف امریکہ ہے جو ہمارا اہم تجارتی شراکت دار اور دفاعی معاون رہا ہے۔اس جنگ کے براہِ راست تصادم میں بدلنے کی وجہ سے، پاکستان پر کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے لیے شدید دباؤ ہے۔

پیٹرو ڈالر کے بحران کی صورت میں چین کا ”یوآن“ اور سی پیک کے تحت تجارتی راستے پاکستان کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ انتخاب ہمیں مغربی بلاک سے دور کر سکتا ہے۔ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ، جو پہلے ہی امریکی دباؤ کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا،اب اس جنگی صورتحال میں مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ توانائی کا بحران پاکستان کی صنعتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سرحد پار سے پناہ گزینوں کی آمد یا فرقہ وارانہ اثرات جیسے داخلی چیلنجز بھی سر اٹھا سکتے ہیں۔

اس منظر نامے میں روس اور چین کا کردار کلیدی ہے۔ اگر پیٹرو ڈالر کا خاتمہ ہوتا ہے، تو پاکستان کا جھکاؤ قدرتی طور پر مشرقی بلاک کی طرف بڑھے گا جہاں نئی معاشی پالیسیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ یہ شفٹ پاکستان کے لیے جہاں نئے مواقع لائے گی، وہاں اسے پرانے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات از سر نو تشکیل دینے پڑیں گے۔اس عالمی رسہ کشی میں پاکستان کی حیثیت ایک ایسے مسافر کی ہے جو طوفان کے مرکز میں کھڑا ہو۔ ہمارے لیے چیلنجز کثیر الجہتی ہیں۔ تیل کی سپلائی میں ذرہ برابر تعطل آنے سے، پاکستان میں مہنگائی کا وہ گراف سامنے آیا ہے جس سے معیشت کی روح کانپ گئی ہے۔ ہماری صنعتیں اور زراعت، جو پہلے ہی مہنگی بجلی اور ایندھن کا شکار تھیں، مزید دباؤ برداشت نہیں کر پارہیں۔ ڈالر پر انحصار کم کرنا اب پاکستان کی ضرورت نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ علاقائی تجارت (Barter Trade) اور مقامی کرنسیوں میں لین دین ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں اس معاشی سونامی سے بچا سکتا ہے۔

ہم ایک ایسی تاریخ کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں ایک غلط فیصلہ پورے عالمی ڈھانچے کو زمین بوس کر سکتا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی یہ جنگ اگر عالمی تصادم میں بدلتی ہے، تو اس کا ملبہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا۔ پیٹرو ڈالر کا ڈوبنا محض ایک کرنسی کا زوال نہیں ہوگا، بلکہ یہ اس عالمی نظام کا خاتمہ ہوگا جسے ہم پچھلے 50 سالوں سے جانتے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ وقت ”انتظار کرو اور دیکھو“ (Wait and Watch) کی پالیسی سے نکل کر ایک مضبوط معاشی اور دفاعی حکمتِ عملی اپنانے کا ہے۔ ہمیں اپنی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہو گا اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہو گا۔

مستقبل کا منظر نامہ بتا رہا ہے کہ جو ممالک وقت رہتے اپنی معاشی سمت درست نہیں کریں گے، وہ اس عالمی بساط پر محض مہرے بن کر رہ جائیں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پرانے بت ٹوٹتے ہیں، نئے نظام جنم لیتے ہیں۔ پیٹرو ڈالر کا سورج غروب ہونا اب محض وقت کی بات معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کو اس بدلتے منظر نامے میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جذباتی فیصلوں کے بجائے ٹھوس معاشی اور سٹریٹجک حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ بارود کے اس ڈھیر پر کھڑی دنیا میں وہی بچے گا جس کے پاس اپنی معاشی ڈھال ہوگی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں