نظریات اقوام کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ نظریات اقوام کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ کوئی قوم مضبوط عقیدے، واضح مقصد اور اجتماعی نظم و ضبط کے ساتھ اٹھے تو وہ زمانے کا دھارا بدل سکتی ہے، اور اگر وہ نظریاتی طور پر کھوکھلی ہو تو اس کی عسکری طاقت اور معاشی وسائل بھی اسے بقا نہیں دے سکتے۔ آج کے دور میں دو نظریاتی دھارے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں، ایک طرف بنیانِ مرصوص کا قرآنی تصور اور اللہ کا وعدۂ صادق، اور دوسری جانب ہندوتوا اور صہیونزم جیسے انتہاپسند، متعصب اور استحصالی نظریات۔

قرآن کریم سورۃ الصف میں فرماتا ہے
إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنيَانٌ مَّرصُوصٌ
یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر اس طرح لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

بنیانِ مرصوص کا مطلب ہے ایک ایسا نظام جس میں ہر فرد اپنی جگہ مضبوطی سے جما ہوا ہو، جیسے دیوار کی اینٹیں۔ یہ تصور نہ صرف عسکری اتحاد کا پیغام دیتا ہے بلکہ فکری، اخلاقی اور معاشرتی یکجہتی کا بھی ضامن ہے۔ وعدۂ صادق کا تعلق قرآن کے اس اعلان سے ہے کہ “حق غالب آئے گا اور باطل مٹ جائے گا”۔ یہ وعدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم ایمان، صبر اور قربانی کے ساتھ کھڑے ہوں تو نتیجہ اللہ کے حق میں ہوگا، چاہے راستہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو۔

ہندوتوا کا بنیادی فلسفہ بھارت کو “ہندو راشٹر” بنانا ہے، جہاں مذہبی اقلیتیں دوسرے درجے کی شہری حیثیت رکھیں۔ اس تحریک کے فکری رہنما ونائک ساورکر اور گووالکر نے کھلے عام نازی جرمنی کی نسلی برتری کے ماڈل کو سراہا۔ آج مودی سرکار کے تحت یہ نظریہ ریاستی پالیسی میں ڈھل چکا ہے۔ کشمیر کی آئینی حیثیت کا خاتمہ، شہریت ترمیمی قانون کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنانا، اور بھارت بھر میں گاؤ کشی کے بہانے تشدد کے واقعات — یہ سب اسی نظریاتی جنون کی علامت ہیں۔ عالمی ادارے بارہا بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں، مگر مغربی طاقتیں اپنے مفاد کے باعث خاموش ہیں۔

صہیونزم کی ابتدا 19ویں صدی میں تھیوڈور ہرتزل کی تحریک سے ہوئی، مگر اس کا عملی نتیجہ 1948 میں فلسطین پر ایک غاصب ریاست کے قیام کی صورت میں نکلا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی، اور مسلسل بستیوں کی توسیع — یہ سب صہیونزم کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ غزہ میں جاری نسل کشی، بچوں اور خواتین پر بمباری، اور محاصرہ اس نظریے کے اس آخری چہرے کو ظاہر کرتا ہے جو طاقت اور قبضے پر یقین رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان اقدامات کو نسلی امتیاز سے تعبیر کیا ہے۔

غزہ میں صرف پچھلے دو برس میں ہونے والی بمباری میں چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں نصف سے زیادہ بچے اور خواتین ہیں۔ اسپتال، اسکول، مساجد اور اقوامِ متحدہ کے شیلٹر تک محفوظ نہیں رہے۔ رپورٹس کے مطابق غزہ کے اسی فیصد علاقے کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔ کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد سے ہزاروں نوجوان حراست میں لیے گئے، سیکڑوں شہید ہوئے، اور مواصلاتی نظام مہینوں بند رکھا گیا۔ بھارتی فوج نے کشمیری خواتین کے خلاف اجتماعی زیادتی کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا۔ یہ دونوں خطے آج انسانی ضمیر کا امتحان ہیں، مگر عالمی میڈیا اور مغربی حکومتیں یہاں کھلی منافقت دکھا رہی ہیں ، یوکرین پر ایک حملہ پوری دنیا کو ہلا دیتا ہے، مگر فلسطین اور کشمیر کے خون کو “سکیورٹی آپریشن” کا نام دے کر جواز فراہم کیا جاتا ہے۔

ہندوتوا اور صہیونزم بظاہر مختلف مذاہب سے جڑے ہیں، مگر ان کا بنیادی فلسفہ ایک ہے طاقت کے ذریعے زمین پر تسلط، اقلیتوں یا مخالفین کو کچل دینا، اور تاریخی بیانیے کو مسخ کر کے نسل پرستانہ ایجنڈا آگے بڑھانا۔ اس کے مقابلے میں بنیانِ مرصوص اور وعدۂ صادق کا نظریہ عدل، مساوات، اور انسانیت پر مبنی ہے۔ یہ نظریہ طاقت کو مقصد نہیں بلکہ وسیلہ سمجھتا ہے، اور اس کا اصل ہدف حق کی بالادستی ہے۔ تاریخ میں غزوۂ بدر، فتح مکہ، اور صلاح الدین ایوبی کی بیت المقدس میں فتح یہ سب اس بات کی گواہی ہیں کہ جب مسلمان اتحاد، ایمان اور قربانی کے اصول اپناتے ہیں تو بڑے سے بڑا استعماری نظام بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔

دنیا ایک نئے نظریاتی تصادم کے دہانے پر ہے۔ ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو انسانیت کو مذہب، نسل اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہیں، اور دوسری طرف وہ پیغام ہے جو سب کو ایک اللہ کی بندگی میں متحد کرتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے اب وقت ہے کہ وہ قرآن کے اس حکم کو عملی جامہ پہنائیں

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو

اگر امت ایک بنیانِ مرصوص بن جائے، تو وعدۂ صادق کا ظہور محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک یقینی حقیقت بن سکتا ہے۔

یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ یا ہم اپنی صفیں درست کر کے تاریخ کے فاتح بنیں گے، یا بکھر کر اس کے حاشیے میں دفن ہو جائیں گے۔ انتخاب ہمارا ہے، مگر وقت زیادہ نہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں