افغانستان میں سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث 100 سے زائد افراد جاں بحق

افغانستان میں حالیہ دنوں کے دوران شدید موسمی حالات کے باعث کم از کم 110 افراد جاں بحق اور 160 زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ 12 دنوں میں طوفانی بارشوں، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، آسمانی بجلی گرنے اور گھروں کے گرنے کے واقعات نے ملک کے بیشتر علاقوں کو متاثر کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مزید سات افراد تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا اور کئی صوبوں میں صورتحال بدستور سنگین ہے۔

افغانستان کے 34 میں سے بیشتر صوبے اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر دور دراز اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔

نقصانات کا دائرہ وسیع ہے۔ افغان خبر رساں ادارے خاما پریس نے کہا ہے کہ 958 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 4 ہزار 155 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان فوری امداد اور رہائش کے محتاج ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 325 کلومیٹر سے زائد سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ کاروبار، زرعی زمینیں، آبپاشی کے نظام اور پینے کے پانی کے ذرائع کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے انتہائی حساس ملک ہے، خاص طور پر موسم بہار میں جب برف پگھلنے اور اچانک طوفانوں کے باعث سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں اور سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ دریا کے کناروں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں