امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے نئے چاند مشن آرٹیمس II کے راکٹ کو مرمت کے بعد لانچ کے لیے تیار قرار دے دیا ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو چار خلا بازوں پر مشتمل یہ مشن یکم اپریل کے آس پاس فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہو سکتا ہے۔
یہ مشن انسانوں کی پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد چاند کی طرف پہلی پرواز ہوگا۔ اس سے پہلے آخری مرتبہ انسان 1972 میں اپولو پروگرام کے دوران چاند تک گئے تھے۔
ناسا کے مطابق 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کو اگلے ہفتے ہینگر سے لانچ پیڈ پر منتقل کیا جائے گا۔ اس مشن میں خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے لیکن اس بار چاند پر اترنا منصوبے میں شامل نہیں ہے۔
یہ پرواز پہلے اس سال کے آغاز میں ہونی تھی، مگر راکٹ میں ایندھن کے اخراج اور دیگر تکنیکی مسائل کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔ بعد میں ہیلیم کے بہاؤ کے مسئلے کی وجہ سے راکٹ کو مرمت کے لیے دوبارہ اسمبلی عمارت میں لے جانا پڑا۔
ناسا کے حکام کا کہنا ہے کہ اپریل کے آغاز میں لانچ کے لیے صرف چھ دن کا محدود وقت دستیاب ہوگا۔ اگر اس دوران پرواز نہ ہو سکی تو پھر اگلا موقع اپریل کے آخر یا مئی کے شروع میں ملے گا۔
ناسا کی عہدیدار لوری گلیز کے مطابق یہ ایک آزمائشی پرواز ہے اور اس میں کچھ خطرات بھی موجود ہیں، تاہم ٹیم اور راکٹ دونوں تیار ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے راکٹ کی پہلی بڑی پرواز میں کامیابی کا امکان تاریخی طور پر تقریباً پچاس فیصد ہوتا ہے۔
ناسا نے اپنے آرٹیمس پروگرام میں بھی کچھ تبدیلیاں کی ہیں تاکہ چاند پر انسانوں کی واپسی کے منصوبے کو تیز کیا جا سکے۔ اب ادارہ 2028 تک ایک یا دو چاند لینڈنگ کرانے کا ہدف رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ اپولو پروگرام کے دوران 24 خلا باز چاند تک گئے تھے، جن میں سے 12 نے چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔