ورزش کے ساتھ وزن کم کرنے والی ادویات کتنی فائدہ مند ہیں اور یہ ورزش سے متعلق آپ کے رویوں کو کیسے بدلتی ہیں؟

وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی جدید ادویات نے دنیا بھر میں نہ صرف لوگوں کے جسمانی وزن میں کمی لائی ہے بلکہ ورزش کے بارے میں ان کے خیالات اور رویوں کو بھی نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ جو افراد پہلے ورزش کو بوجھ، سزا یا مجبوری سمجھتے تھے، اب وہ اسے اپنی زندگی کا خوشگوار حصہ قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے 47 سالہ جیمی سیلزلر کا کہنا ہے کہ وہ ساری زندگی ورزش سے نفرت کرتے رہے۔ نوجوانی میں جب بھی وہ جم جاتے تو یہ عمل انہیں سزا محسوس ہوتا تھا۔ وہ ورزش کے بعد خود کو خوش کرنے کے لیے بازاری کھانے کھاتے، جس کے باعث ان کا وزن بڑھتا گیا۔ چالیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ گھر کے باہر دروازے تک پیدل جانا بھی دشوار ہو گیا تھا۔

سال 2023 میں انہوں نے وزن کم کرنے والی دوا ویگووی استعمال کرنا شروع کی۔ چند ماہ کے اندر ان کا وزن کم ہونے لگا اور انہیں چلنے میں آسانی محسوس ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر وہ روزانہ چہل قدمی کا انتظار کرنے لگے۔ اب وہ روزانہ سات میل سے زیادہ پیدل چلتے ہیں اور ہفتے میں چار دن جسمانی طاقت بڑھانے والی مشقیں کرتے ہیں۔ ان کے بقول پہلی مرتبہ انہیں یہ احساس ہوا کہ ورزش صرف وزن گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ جسمانی طاقت اور توانائی محسوس کرنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔ بعد ازاں وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ذاتی مدرب بھی بن گئے۔

اسی طرح اوزیمپک اور مونجارو جیسی ادویات استعمال کرنے والے کئی افراد کا کہنا ہے کہ اب وہ ورزش کو سزا نہیں سمجھتے۔ ماہر غذائیت سمر کیسل کے مطابق جب لوگ صرف پرہیز کے ذریعے وزن کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی ساری توجہ کیلوریز کو گننے پر مرکوز رہتی ہے اور وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں ورزش سے نفرت کیوں ہے۔ ان ادویات کے استعمال سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے، جس سے افراد اپنی پسند کی جسمانی سرگرمیاں اپنانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

59 سالہ ڈینا گرین پہلے ورزش کو بوجھ سمجھتی تھیں، مگر مونجارو استعمال کرنے کے بعد انہیں جم جانا اچھا لگنے لگا۔ انہوں نے اپنی صحت بہتر بنانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہوں نے اپنی والدہ کو کمزوری کے باعث چلنے پھرنے سے محروم ہوتے دیکھا۔ دو برس بعد جب ان کے گھر کے صحن میں ایک بڑا درخت گر گیا تو انہوں نے اکیلے ہی اسے کاٹ کر صاف کر دیا، جس پر ان کے گھر والے حیران رہ گئے۔

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے باعث نہ صرف وزن کم ہوا بلکہ جسم میں سوزش اور درد میں بھی کمی آئی۔ 57سالہ لی اینجلیا گھٹنوں، کولہوں اور کمر کے شدید درد کے باعث چھڑی کے سہارے چلتی تھیں۔ وہ ورزش سے خوفزدہ رہتی تھیں کیونکہ معمولی چلنے کے بعد بھی کئی دن تک درد رہتا تھا۔ دوا شروع کرنے کے بعد ان کے درد میں کمی آئی، ان کے روزانہ قدموں کی تعداد بڑھی اور انہوں نے کرسی پر کی جانے والی یوگا اور مزاحمتی مشقیں شروع کیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی زندگی کی پہلی پانچ کلومیٹر دوڑ بھی مکمل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ورزش خوشی کا سبب بھی بن سکتی ہے، مگر اب یہ ان کے لیے حقیقی مسرت کا ذریعہ ہے۔

بہت سے افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے وہ کھانے کو ورزش کا انعام سمجھتے تھے، مگر اب وہ خوراک کو جسم کی ضرورت اور توانائی کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر کسی کا تجربہ یکساں نہیں ہوتا۔ بعض افراد کو ان ادویات کے استعمال کے دوران تھکن، معدے کے مسائل یا کمزوری کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب وہ کم کھانا یا کم پانی پینا شروع کر دیتے ہیں۔ چند کھلاڑیوں نے یہ بھی بتایا کہ وزن کم ہونے کے باوجود ان کی برداشت متاثر ہوئی، تاہم بعد میں مناسب خوراک اور پانی کے استعمال سے یہ مسئلہ بہتر ہو گیا۔

ماہرین کے مطابق اب فٹنس کی دنیا کو بھی اپنی سوچ بدلنا ہوگی کیونکہ ورزش کا مقصد صرف وزن گھٹانا نہیں بلکہ جسمانی مضبوطی، ذہنی سکون اور بہتر معیارِ زندگی حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ادویات بہت سے لوگوں کو پہلی بار یہ موقع فراہم کر رہی ہیں کہ وہ ورزش کو خوشی اور خود اعتمادی کے ساتھ جوڑ سکیں۔

جیمی سیلزلر اب روزانہ طویل فاصلے کی پیدل سیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی قید سے آزاد ہو گئے ہوں اور اب وہ پرانی زندگی کی طرف واپس نہیں جانا چاہتے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں