پاکستان کیسے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث بن کر سامنے آیا؟

گزشتہ چند دنوں سے عالمی میڈیا میں پاکستان کے خوب چرچے ہیں۔ کل مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسلام آباد میں ایک اہم بیٹھک بھی ہوئی، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کیسے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث بن کر سامنے آیا؟

بین الاقوامی سیاست میں ایسے ممالک بہت کم ہوتے ہیں جو ایک ہی وقت میں دو مخالف فریقوں کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات رکھ سکیں۔ پاکستان کی خاص بات یہی ہے، ایک طرف امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات حالیہ عرصے میں بہتر ہوئے ہیں، سفارتی روابط بڑھے ہیں، سیکیورٹی تعاون بحال ہوا ہے اور اقتصادی سطح پر بھی نئی بات چیت سامنے آئی ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں بلکہ مسلسل رابطے میں رہے ہیں، خاص طور پر سرحدی اور علاقائی معاملات پرمسلسل رابطہ ہو رہا ہے۔

اسی “بیلنس” نے پاکستان کو ایک ایسے ملک میں بدل دیا ہے جو دونوں کے درمیان پیغام رسانی کر سکتا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب براہِ راست بات چیت تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔

پاکستان اور ایران صرف ہمسایہ ہونے کے ساتھ ایک دوسرے کے حالات سے براہِ راست متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔ اگر ایران میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات سرحد پار فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں، چاہے وہ سیکیورٹی کے مسائل ہوں، مہاجرین کی آمد ہو یا سرحدی کشیدگی۔ اسی خدشے کی جانب تاشقند اردو نے اپنی ایک رپورٹ میں گزشتہ ماہ تفصیل سے اشارہ کیا تھا کہ کیسے ایران میں رجیم پاکستان کے لیے افغان طرز پر ایک اور فرنٹ کھول سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اس کشیدگی کو کم کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اس جنگ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے پورا کرتا ہے۔ جیسے ہی کشیدگی بڑھی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اوپر گئیں، جس کا براہِ راست اثر پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑا۔ اس کے علاوہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور وہ ہر سال اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔ اگر خطے میں جنگ پھیلتی ہے تو نہ صرف روزگار متاثر ہو سکتا ہے بلکہ ترسیلاتِ زر بھی کم ہو سکتی ہیں۔

ایران پر حملوں کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج دیکھنے میں آیا۔ کچھ مقامات پر یہ احتجاج پرتشدد بھی ہو گیا، خاص طور پر کراچی میں جہاں امریکی قونصل خانے پر حملہ ہوا۔ ایران کی مذہبی قیادت، خاص طور پر اس کے سپریم لیڈر، پاکستان کی شیعہ برادری کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے خطے میں ہونے والی پیش رفت کا ردعمل پاکستان کے اندر بھی شدت سے محسوس کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کا سب سے اہم کردار “بیک چینل ڈپلومیسی” میں ہے۔ یعنی ایسا سفارتی عمل جو عوامی سطح پر نظر نہیں آتا لیکن اصل پیش رفت وہیں ہوتی ہے۔ پاکستان امریکہ کے پیغامات ایران تک پہنچا رہا ہے اور ایران کے ردعمل کو واشنگٹن تک منتقل کر رہا ہے۔ یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک براہِ راست مذاکرات سے گریز کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایک قابلِ اعتماد ثالث ہی رابطے کا واحد ذریعہ بنتا ہے۔

اس معاملے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر نظر آتی ہے۔ وزیرِاعظم کی سطح پر ایران کے ساتھ رابطے ہو رہے ہیں، جبکہ عسکری قیادت کے امریکہ کے ساتھ براہِ راست روابط بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ مشترکہ کوشش پاکستان کی سفارتی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر دونوں فریق تیار ہوں تو وہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ پاکستان یہ کردار اکیلے ادا نہیں کر رہا۔ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی اس سفارتی عمل کا حصہ ہیں۔ اگرچہ پاکستان کو عام طور پر عالمی ثالث کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اہم مواقع پر ایسا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ چاہے وہ امریکہ اور چین کے درمیان رابطے قائم کرانا ہو، افغانستان کے معاملات میں کردار ہو یا طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی سہولت کاری، پاکستان نے کئی بار پسِ پردہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں