سگریٹ کا دھواں پھیپھڑوں کے کینسر کی راہ کیسے ہموار کرتا ہے، ماہرین اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں اس عمل کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی ہیں جس کے ذریعے طویل عرصے تک سگریٹ کے دھویں کا سامنا پھیپھڑوں کے بنیادی خلیوں کو تبدیل کر کے انہیں کینسر پیدا کرنے والی جینیاتی تبدیلیوں کے لیے زیادہ حساس بنا سکتا ہے۔

امریکہ کے جانز ہاپکنز سڈنی کِمل کمپری ہینسو کینسر سینٹر کے محققین نے لیبارٹری میں تیار کیے گئے پھیپھڑوں کے چھوٹے تھری ڈی نمونوں کو چھ ماہ تک سگریٹ کے دھویں میں موجود کیمیائی مادوں اور ذرات کے سامنے رکھا۔ محققین نے اس دوران پھیپھڑوں کے بنیادی خلیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ طویل عرصے تک سگریٹ کے دھویں کا سامنا خلیوں کے جینیاتی نظام کے کام کرنے کے انداز اور مختلف جینز کی سرگرمی میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ متاثرہ خلیوں میں ایسی خصوصیات پیدا ہونے لگیں جو کینسر بننے سے پہلے کی حالت سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔

محققین نے اس کے بعد سگریٹ نوشی سے منسلک پھیپھڑوں کے کینسر میں عام طور پر پائی جانے والی دو جینیاتی تبدیلیوں KRAS اور TP53 کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تجربات میں صرف وہ خلیے ٹیومر بنانے میں کامیاب ہوئے جو پہلے طویل عرصے تک سگریٹ کے دھویں سے متاثر ہوئے تھے اور بعد میں ان میں ان میں سے کوئی ایک جینیاتی تبدیلی موجود تھی۔

اہم بات یہ ہے کہ تحقیق میں صرف سگریٹ کے دھویں کا سامنا کرنے والے خلیوں میں ٹیومر نہیں بنے، جبکہ دھویں سے متاثر نہ ہونے والے خلیوں میں صرف جینیاتی تبدیلی پیدا کرنے سے بھی ٹیومر نہیں بنا۔ محققین کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ طویل عرصے تک سگریٹ کے دھویں سے پیدا ہونے والی خلیاتی تبدیلیاں اور کینسر سے منسلک جینیاتی تبدیلیاں مل کر بیماری کی ابتدا میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے کینسر کی مختلف اقسام پیدا ہوئیں۔ KRAS نامی جین میں تبدیلی کے بعد ایسے کینسر بنے جن میں پھیپھڑوں کے ایڈینوکارسینوما کی خصوصیات موجود تھیں، جبکہ TP53 جین کے غیر فعال ہونے سے سکیمس سیل کینسر پیدا ہوا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد پھیپھڑوں کے کینسر کے بالکل ابتدائی مراحل کو سمجھنا تھا۔ نتائج سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ سگریٹ کا دھواں، خلیوں میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیاں اور جینیاتی خرابیاں کس طرح مل کر پھیپھڑوں کے کینسر کی مختلف اقسام کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔

یہ تحقیق 5 اکتوبر کو سائنسی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ میں رپورٹ کی گئی۔ تحقیق کے نتائج بنیادی طور پر لیبارٹری میں تیار پھیپھڑوں کے نمونوں اور چوہوں پر کیے گئے تجربات پر مبنی ہیں، اس لیے ان نتائج کو انسانوں میں براہِ راست علاج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں