ایک صدی پرانے “آئرن وال” نامی مضمون نے کیسے اسرائیل کے دفاعی نظام کو ترتیب دیا؟

ولادیمیر جبوتینسکی (Ze’ev Jabotinsky) نے 1923 میں اپنے مضمون The Iron Wall (We and the Arabs) میں عزرائیل کے لیے ایک فوجی اور سیاسی نظریہ پیش کیا تھا۔ جبوتینسکی روس میں پیدا ہونے والے ایک اہم زیونسٹ لیڈر، مصنف، خطیب اور فوجی رہنما تھے۔

انہیں ریویژنیسٹ زیونزم (Revisionist Zionism) کی نظریاتی بنیادوں کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ ریویژنیسٹ زیونزم ایک سیاسی زیونسٹ تحریک تھی جو 1920 کی دہائی میں ابھری اور اس نے طاقتور یہودی ریاست کے قیام اور فوجی طاقت کے استعمال پر زور دیا۔

ان کے مضمون آئرن وال کا بنیادی خیال یہ تھا کہ فلس طین یوں کو (یا اس وقت کے عربوں کو) اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے کہ یہودیوں کا اس سرزمین پر ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر وجود ہے۔ جبوتینسکی کا ماننا تھا کہ عرب کبھی بھی رضاکارانہ طور پر یہودی ریاست کو قبول نہیں کریں گے، اس لیے یہودیوں کو ایک ایسی “آہنی دیوار” (جیسے فوجی طاقت اور مضبوط آبادکاری) تعمیر کرنی ہوگی جو اتنی قوی ہو کہ عرب اسے توڑ نہ سکیں۔

ان کے مطابق جب عرب یہ جان لیں گے کہ وہ یہودی ریاست کو فوجی طاقت سے ختم نہیں کر سکتے، تب ہی وہ یہودی ریاست کے ساتھ بات چیت کرنے اور سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ اس وقت تک کوئی امن ممکن نہیں ہے۔

آج بھی “آئرن وال” کا تصور اسرائیلی دفاعی حکمت عملی اور سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف “ آئرن ڈوم” کی پشت پر ہمیں یہ نظریہ کارفرماء نظر آتا ہے، وہیں اس کے تصور کو آج کے دور میں اکثر اسرائیل کو ملنے والی مغربی ممالک کی حمایت کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

ولادیمیر جبوتینسکی کا اصل نظریہ یہ تھا کہ عربوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ وہ یہودی ریاست کو فوجی طاقت سے ختم نہیں کر سکتے۔ ان کے نزدیک یہ “آہنی دیوار” بنیادی طور پر فوجی طاقت اور مضبوط یہودی آبادکاری پر مشتمل ہوگی۔ تاہم، وقت کے ساتھ اس آہنی دیوار کی نوعیت میں تبدیلی آئی اور آج اس میں کئی جہتیں شامل ہو گئی ہیں۔

امریکہ اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جس میں جدید ترین ہتھیار اور دفاعی نظام جیسے آئرن ڈوم شامل ہیں۔ یہ عزرائیل کی فوجی برتری کو یقینی بناتا ہے، جو جبوتینسکی کے اصل نظریے کا ایک اہم حصہ تھا۔

بین الاقوامی سطح پر امریکہ اور مغربی ممالک اکثر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر عزرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کرتے ہیں یا ان کے خلاف ووٹ دیتے ہیں، جس سے عزرائیل کو عالمی دباؤ سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ یہاں بھی ایک مضبوط سیاسی دیوار کا سفارتی عنصر موجود ہیں۔

جبوتینسکی نے بنیادی طور پر مقامی عرب آبادی کے خلاف ایک جسمانی اور فوجی دیوار کا تصور پیش کیا تھا۔ لیکن آج کے عالمی تناظر میں یہ آئرن وال صرف ایک جغرافیائی یا فوجی رکاوٹ نہیں رہی۔ اس نے ایک جامع شکل اختیار کر لی ہے جس میں عالمی طاقتوں کی حمایت، سفارت کاری، اور اقتصادی امداد بھی شامل ہیں۔ یہ سب مل کر اسرائیل کے وجود کو ایک ایسے مضبوط قلعے کی طرح بناتے ہیں جس کو مخالفین کے لیے توڑنا انتہائی مشکل ہو۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں