بلوچستان میں حالیہ واقعہ جس میں ایک مرد اور عورت کو غیرت کے نام پر سرعام گولیاں مار کر قتل کیا گیا، اس حوالے سے ابتدا میں سوشل میڈیا پر یہ بات وائرل ہوئی کہ یہ کوئی پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تھا، لیکن بعد میں تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا کہ یہ مرد اور عورت آپس میں میاں بیوی نہیں تھے، بلکہ دونوں الگ الگ صاحب اولاد ہیں اور ان کے چار چار پانچ پانچ بچے بھی ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ بات جس انداز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ، حقیقت اس سے بہت کچھ مختلف تھی۔ اس سلسلے میں جس چیز پر لوگوں نے بہت افسوس کا اظہار کیا وہ یہ تھی کہ ہمارے یہاں کسی عورت کی پسند کو جرم بنا دیا جاتا ہے، اور یوں بات لڑکی لڑکے کے گھر سے بھاگ کر یا محبت کی شادی کرنے کو گلوریفائی کرنے کی طرف چلی گئی ، جیسا کہ ایسے واقعات کے تناظر میں اکثر ہوتا ہے۔اگرچہ یہ خاص واقعہ تو محبت کی شادی کرنے والے نئے جوڑے سے متعلق نہیں نکلا، لیکن چونکہ اس پر بات اسی تناطر میں ہوئی ، اس لیے ان سطور میں ہم مذکورہ واقعے پر مختصر تبصرے کے بعد اسی معاشرتی مسئلے کے حوالے سے بات کریں گے:
1) واقعے سے متعلق چند اہم پہلو
سوشل میڈیا اور ہیجان
اس ضمن میں پہلی بات تو سوشل میڈیا کی وہی ہیجانی کیفیت سے متعلق ہے کہ ایک بات کی تحقیق کے بغیر ہی اسے کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے۔ میں نے بھی یہ وائرل ویڈیو باربار اور ہر ہر وال پر دیکھی ، لیکن تسلی نہیں ہوئی ، لہذا نہ اس کو شیئر کیا اور نہ اس پر کوئی تبصرہ کیا، کہ جب تک بات واضح نہ ہو کیا کہیں! سو سوشل میڈیا یوزرز اور بہ طور خاص اس پر لکھنے والے سکالرز اور محققین کو چاہیے کہ کسی خبر کو ایسے بس چل جانے کی وجہ سے فورا بغیر تصدیق سے آگے شیئر نہ کیا کریں ۔ بعض امور میں ممکن ہے اس کا کوئی فوری نقصان نہ ہو، لیکن اس چیز کے رجحان بن جانے سے اور بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو طرح طرح کی معاشرتی پیچیدگیوں کا سبب بنتے ہیں۔
ایسے خود سے سزا دینے کا کسی کو حق نہیں
یہ شادی شدہ مرد اور عورت اگر زنا کے مرتکب ہو کر ملکی قانون کی رو سے مجرم تھے، تو اس کا ثبوت قانونی طریقے سے فراہم کرکے انھیں سزا دی جاسکتی تھی۔ یوں فیملی یا برداری وغیرہ کا خود سے ان کو سر عام بے دردی سے قتل کرنا، کسی صورت درست نہیں تھا۔ اس کا فیصلہ صرف ریاستی عدلیہ ہی کر سکتی ہے۔ قبیلےاور خاندان اپنے ہاتھ میں بندوق لے کر اپنی مرضی کا “انصاف”کرنے لگیں، تو ایسے ہی جنگل کے قانون کا نقشہ سامنے آتا ہے۔
2) گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا مسئلہ
اب ہم اس واقعے کے تناظر میں ہونے والی اس بحث کی طرف آتے ہیں ، جو اگرچہ اس واقعے کی حقیقت معلوم ہونے کے بعد اس خاص واقعے سے تو براہ ِراست متعلق نہیں رہی ،لیکن بہر حال یہ ہماری سوسائٹی کا ایک نہایت اہم اور پیچیدہ مسئلہ ہے، اور وہ ہے نوجوانوں میں پسند کی شادی یا گھر سے بھاگ کر شادی کرنا۔ اس کو ہم اختصار کے ساتھ چند نکات کی صورت میں دیکھتے ہیں:
والدین و اولاد کے درمیان اعتماد اور مکالمے کا فقدان
گھر سے بھاگ کر شادی کے ضمن میں ایسے سانحات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان جذباتی، ذہنی اور سماجی فاصلہ بڑھ گیا ہے۔بچے، خاص طور پر لڑکیاں، اپنے دل کی باتیں والدین سے نہیں کرتیں، اور والدین ان کے مسائل سننے یا سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ ہمیں اپنے بچوں کے دوست بننے کی ضرورت ہے۔ ان سے بات کریں، ان کے جذبات سنیں، ان کی الجھنیں سمجھیں، ان کی خواہشات کو چینلائز کریں۔ جب بچے محسوس کریں گے کہ ان کا گھر ہی ان کی پناہ گاہ ہے، تو وہ باہر کسی غیر کے جھوٹے دلاسے یا وقتی محبت کی طرف نہیں جائیں گے۔ اگر کہیں والدین یہ محسوس کریں کہ ان کا بچہ یا بچی شادی کے حوالے سے کہیں جذباتی وابستگی بنا بیٹھے ہیں، او روالدین ایسے کسی رشتے سے مطمئن نہیں اور اسے بچے بچی کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں، توآپس میں بیٹھ کر مکالمہ کریں؛ یا بچوں کو قائل کر لیں یا خود ان کے قائل ہو جائیں۔ اگر بچے اپنی پسند پر اصرار کریں تو ان کی بات مان لیں، آگے زندگی ان کو خود سکھا دے گی۔
بچوں پر والدین کے احسانات، قربانیوں اور ان کی عزت کا لحاظ لازم ہے
لڑکیوں یا عورتوں سے برے سلوک کا رونا تو ہمارے یہاں بہت رویا جاتا ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں بیٹیوں کو بہت پیار بھی دیا جاتا ہے۔ والدین دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے بہت سے لوگ خصوصاً بیٹیوں کوکس قدر محبت، عزت اور توقیر دیتے ہیں! وہ ان کی پرورش میں دن رات ایک کر دیتے ہیں ،ان کی ضروریات کے لیے ہر طرح کے مصائب و مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ تعلیم ، روز مرہ ضروریات وغیرہ سب کچھ بہتر سے بہتر فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہن بھائی اس بیٹی کے لیے فخر محسوس کرتے ہیں، اور پھر جب اس کی شادی کا وقت آتا ہے تو سب مل کر اپنی اوقات سے زیادہ خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ باعزت طریقے سے رخصت ہو۔اب اگر کوئی لڑکی ایک وقتی جذباتی کشش یا کسی شخص کے وقتی میٹھے وعدوں پر سب کچھ روندتے ہوئے، ماں باپ، بہن بھائی، گھر کی عزت ، سب کو پسِ پشت ڈال کر کسی کے ساتھ چلی جائے، تو یہ چیز صرف ایک انفرادی فعل نہیں بلکہ اجتماعی جذبات کی توہین بن جاتی ہے۔عام مشاہدے کی بات ہے کہ ایسی تعلق کے نتیجے میں شادی کے بعد بہت سی لڑکیاں خود یہ مانتی ہیں کہ وہ دھوکا کھا گئیں۔ ایسے میں یہ سوال ضروری ہے کہ کیا وہ ماں باپ، بہن بھائی، جنھوں نے زندگی بھر تمھیں محبت اور عزت دی، کم قیمتی تھے، اُس شخص سے جس کی محبت اکثر جعلی ثابت ہوتی ہے؟
بغیر سوچے سمجھے کیے گئے فیصلے اکثر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں
مشاہدہ اور رپورٹس بتاتی ہیں لڑکا اکثر وہ نہیں نکلتا، جو وہ شادی سے پہلے جذباتی سےوقتی تعلق میں دکھائی دیتا ہے۔ بہت سے کیسز میں جو لڑکیاں والدین کے خلاف جا کر شادی کرتی ہیں، کچھ ہی مہینوں میں خود مانتی نظر آتی ہیں کہ انھوں نے بہت بڑی غلطی کی۔ جو لڑکا محبت کی علامت تھا، شادی کے بعد ایک ظالم، بدتمیز، یا جذباتی استحصال کرنے والے شخص کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ بہت سے کیسز میں لڑکیاں اپنی پہلے والی محبت سے اتنی تنگ آجاتی ہیں کہ خود کشی کر لیتی ہیں ، ورنہ زندگی بھر کی ذلت اور پچھتاوے میں اکثر نظر آتی ہیں ۔ بنا بریں نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ ایسے فیصلوں میں جذبات پر جا کر تجربے، عقل، اور اجتماعی خیر کے ثمرات سے محروم تو نہیں ہو رہے! والدین اکثر اپنی زندگی کا نچوڑ اپنی اولاد کو منتقل کرتے ہیں، ان کی بات سننا نقصان دہ نہیں، بلکہ نفع بخش ثابت ہوتا ہے۔
ایسے نوجوانوں کو ہیرو بنانا سماج کے لیے صحت مند رویہ نہیں
یہ بھی ایک بہت بڑی غلطی ہے کہ ایسے جوڑے جو گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں، ان کو میڈیا یا کچھ حلقے “ہیرو” بنا دیتے ہیں، یا ان کی ہر حرکت کو ذاتی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہر معاشرے کے کچھ مقامی مسائل اور حساسیتیں ہوتی ہیں، اور ان کو نظر انداز کر کے “آفاقی آزادی” کے نعرے لگا دینا حقیقت سے فرار ہے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں، خاص طور پر بلوچستان، کے پی اور حتیٰ کہ پنجاب جیسے تعلیم یافتہ علاقوں میں بھی، اگر کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کرتی ہے، تو اس کا نہ صرف پورا خاندان سماجی طعنوں، بائیکاٹ اور تنہائی کا شکار ہوتا ہے، بلکہ اس کی بہنوں، حتی کہ خاندان کی دوسری لڑکیوں تک کی شادی میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ سب رویے درست ہیں، مگر ہم یہ بھی نہیں کَہ سکتے کہ یہ چیزیں سماجی حقیقت نہیں ہیں۔
تبدیلی کا عمل تدریجی ہوتا ہے، زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا مزید بگاڑ پیدا کرتا ہے
ہر معاشرہ بدلنے میں وقت لیتا ہے،محض نعرے بازی یا آئیڈیلزم سے تبدیلی نہیں آتی۔ جب ہم کسی سماجی مسئلے کو صرف نظریاتی سطح پر دیکھتے ہیں اور زمینی حقائق کو نظرانداز کر دیتے ہیں، تو ہم نہ صرف مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، بلکہ مزید بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان نہ صرف اپنے جذبات کو سمجھیں، بلکہ ان کا توازن، سماج کی حساسیت، مذہب کی تعلیم، والدین کی حیثیت، اور اپنے مستقبل کو پیش نظر رکھیں تاکہ ایک متوازن، کامیاب، اور عزت دار زندگی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے۔
خلاصہ یہ کہ مذکورہ نوعیت کے واقعات صرف مذہب کا مسئلہ نہیں، بلکہ قانون سے بالاتر خود ساختہ انصاف، والدین سے دوری، نوجوانوں کی جلد بازی، اور سماجی عدم برداشت کا مشترکہ بحران ہے۔ اس کا حل سماج کی تفہیم ، مکالمے، تعلیم، اعتماد، اور جذبات کو عقل کے تابع رکھنے میں ہے۔ والدین کو بچوں کے ساتھ دوستی کرنی چاہیے، اور بچوں کو والدین کی محبت اور عزت کو نظرانداز کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔