ہانگ کانگ میں جمعرات کے روز رہائشی عمارتوں میں بھڑکنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 128 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں بے حد پریشان ہیں۔
38 سالہ وونگ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہم اپنی بھابھی اور ان کے جڑواں بچوں کو ابھی تک تلاش نہیں کر سکے۔ اس لیے ہم مختلف ہسپتالوں میں جا رہے ہیں تاکہ پوچھ سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم پہلے ہی دن پرنس آف ویلز ہسپتال میں انتظار کر رہے تھے لیکن کوئی خبر نہیں ملی۔ ہم کل بھی یہاں آئے تھے۔
متاثرہ افراد کی شناخت کی امید میں پولیس نے کمیونٹی سینٹر میں موجود لوگوں کو آگ سے نکالی گئی لاشوں کی تصاویر دکھائیں، تاہم بہت سے خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کے بارے میں مزید معلومات جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق ٹاور بلاک میں لگی آگ میں کم از کم 128 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجن بھر سے زائد لاشیں اب بھی عمارتوں کے اندر موجود ہیں۔
اس کے علاوہ 50 سے زیادہ افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے متعدد کی حالت نازک یا تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے اس بڑے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔ پولیس آج وانگ فوک کورٹ کی عمارتوں میں شواہد جمع کرنے کے لیے داخل ہوگی اور تفتیش آئندہ تین سے چار ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔