پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فارما، توانائی اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے تاشقند کا اعلیٰ سطح دورہ کیا ہے۔ اس وفد میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل ، اور وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندگان شامل تھے۔

ہارون اختر خان نے ازبکستان کے وزیراعظم عبداللہ عاریپوف سے ملاقات کی، جس میں بینکنگ روابط، تجارتی تعلقات اور علاقائی ربط بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ دونوں ممالک نے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کے بروقت آغاز کے عزم کا اعادہ کیا، نیشنل بینک آف پاکستان کی تاشقند میں شاخ کھولنے پر بات ہوئی، جبکہ ترجیحی تجارتی معاہدے میں وسعت کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

دورے کے دوران ہارون اختر خان نے ازبک وزارتِ معدنیات و ارضیات کے حکام سے ملاقات کی، جہاں معدنی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ وسیع قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر باہمی ترقی ممکن ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وزارتی سطح پر باقاعدہ روابط قائم رکھے جائیں گے تاکہ مشترکہ منصوبے آگے بڑھ سکیں۔

ہارون اختر خان نے تاشقند کے ٹیکنو پارک اور فارما پارک کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے گھریلو اور برقی آلات کی مقامی پیداوار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے جدید گیس و الیکٹریک میٹرز اور شمسی واٹر ہیٹرز کی مشترکہ تیاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے دونوں ممالک کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے نئے راستے کھولیں گے۔

فارماسیوٹیکل شعبے میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بات ہوئی۔ ہارون اختر نے پاکستان کی دوا ساز صنعت کے لائسنسنگ اور سرٹیفکیشن کے عمل کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ازبک مارکیٹ تک رسائی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف پاکستانی دوا ساز برآمدات میں اضافہ ہو گا بلکہ عالمی معیار کے مطابق بہتری بھی آئے گی۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان خطے میں اقتصادی انضمام کا خواہاں ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان صنعتی و معدنی شعبوں میں ایک مضبوط شراکت دار بننے کے لیے پرعزم ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں