مینوپاز (Menopause) کے ساتھ آنے والی علامات جیسے ہاٹ فلیشز، رات کو پسینہ آنا اور نیند کے مسائل خواتین کی زندگی کو سخت متاثر کر سکتے ہیں۔ ان مسائل کے علاج کے لیے ہارمون تھراپی کو ایک مؤثر آپشن سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے حوالے سے طویل عرصے سے خدشات اور کنفیوژن موجود ہیں۔
2002 میں ایک تحقیق قبل از وقت روک دی گئی تھی کیونکہ ایک مخصوص ہارمون علاج سے چھاتی کے کینسر اور خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹس) کے خطرات بڑھنے کے شواہد سامنے آئے تھے۔ بعد میں کئی مطالعات نے یہ واضح کیا کہ موجودہ ہارمون علاج بہت سی خواتین کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن پھر بھی خوف اور ہچکچاہٹ برقرار ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہارمون تھراپی بہت سی خواتین کے لیے بہترین حل ہو سکتی ہے، لیکن ہر مریض کے لیے موزوں نہیں۔ خواتین کو یہ فیصلہ کرتے وقت اپنی عمر، طبی تاریخ اور علاج کے دورانیے کو لازمی مدِنظر رکھنا چاہیے۔
ہارمون تھراپی کیسے کام کرتی ہے؟
مینوپاز کے دوران ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہارمون تھراپی استعمال کی جاتی ہے۔
لو ڈوز ویجائنل ایسٹروجن: صرف اندام نہانی میں لگایا جاتا ہے، جس سے خون میں ہارمون بہت کم جاتی ہے، اور خطرات بھی کم ہوتے ہیں۔
سسٹمک تھراپی (پوری باڈی کے لیے): گولیاں، پیچ، اسپرے، جیل یا ویجائنل رنگ کے ذریعے ہارمون پورے جسم میں پہنچتے ہیں۔ یہ علاج ہاٹ فلیشز، نیند کی کمی اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کم کرتا ہے۔
فوائد
ہارمون تھراپی کارڈیو ویسکولر بیماریوں کے خطرات کم کر سکتی ہے اگر مینوپاز کے 10 سال کے اندر شروع کی جائے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس کے امکانات کم کر سکتی ہے۔
ہڈیوں کی مضبوطی کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہے۔
خطرات
بریسٹ کینسر کا خطرہ: ایسٹروجن تھراپی 7 سال تک محفوظ ہے، جبکہ ایسٹروجن + پروجیسٹرون تھراپی 3 سے 5 سال تک محفوظ مانی جاتی ہے۔
فالج (اسٹروک) اور بلڈ کلاٹس کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، لیکن علاج روکنے کے بعد یہ خطرات کم ہو جاتے ہیں۔
منہ کے ذریعے ہارمون لینے سے خطرہ زیادہ جبکہ پیچ، جیل یا اسپرے کے ذریعے خطرہ کم سمجھا جاتا ہے۔
متبادل علاج
Fezolinetant (Veozah): ایک نئی نان ہارمونل دوا جو ہاٹ فلیشز اور رات کو پسینے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
Gabapentin: ایک اینٹی ایپی لیپٹک دواہے، کم مقدار میں اس کی خوراک فائدہ مندہے۔
ویجائنل ڈرائنس کے لیے موئسچرائزر بھی کارآمدہے۔
ورزش اور متوازن خوراک علامات کو کم کرنے میں مددگارہوتی ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات، جیسے کہ ہارمونز ڈیمنشیا کو روک سکتے ہیں یا لمبی عمر کی ضمانت ہیں، حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خواتین کو ہارمون تھراپی کے فوائد اور خطرات دونوں کا متوازن جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے۔