حماس کے سینئررہنما، سمیع ابو زہری نے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کے مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افراتفری اور کشیدگی بڑھانے کا نسخہ قرار دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، سمیع ابو زہری نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ، فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ،فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم اور قبضے کو ختم کیا جائے، نہ کہ انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جائے۔
حماس رہنما کا مزید کہنا تھا کہ، غزہ کے شہریوں نے مسلسل 15 ماہ کی بمباری اور شدید حالات کے باوجود نقل مکانی اور جلاوطنی کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ فلسطینی عوام اپنی سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جو انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔
الجزیرہ کے مطابق، حماس کے ایک سینئر رہنما، موسی ابو مرزوق نے روس کے سرکاری خبر رساں ادارے ’آر آئی اے‘ کو بتایا ہے کہ، حماس ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات اور رابطے کے لیے تیار ہے۔
ماسکو کے دورے کے دوران موسی ابو مرزوق نے کہا کہ، ہم امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔