خلیجی ممالک : امریکہ سے دفاعی شراکت داری نئی شرائط پر

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران پر جارحیت کے بعد خلیجی ممالک اور امریکا کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی سامنے آنے کا امکان ظاہر پیداہے۔ ایک ماہرِ بین الاقوامی سیاست و سکیورٹی محمد سیلوم کے مطابق، جب خطے میں بمباری ختم ہوگی اور سفارتی سطح پر جائزے شروع ہوں گے تو سب سے بڑی تبدیلی ایران کی فوجی کمزوری نہیں ہو گی بلکہ خلیجی ممالک کے رویے میں واضح تبدیلی ہوگی

ایک رپورٹ کے مطابق وہ خلیجی ممالک جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اب صرف ایک پلیٹ فارم یا میزبان کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ خود کو امریکا کا برابر کا شراکت دار دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں کی جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ ان ممالک کو جو خطرات لاحق ہوئے ہیں، وہ اس تحفظ کے برابر نہیں جو انہیں امریکا کی جانب سے فراہم کرنے کا وعدہ امریکہ کی جانب سے کیا گیا تھا

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستیں امریکا سے اتحاد ختم نہیں کریں گی، لیکن اب وہ اس تعلق کو نئی شرائط کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہوگا کہ دفاعی تعاون کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ ان کی سلامتی کو حقیقی اور مؤثر تحفظ مل سکے، نہ کہ صرف علامتی حمایت اس کے علاوہ خلیجی ممالک یہ بھی چاہیں گے کہ مستقبل میں کسی بھی جنگ یا تنازع میں انہیں پیشگی اعتماد میں لیا جائے اور ان کے مفادات کو ترجیح دی جائے۔ وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے خطے کو جنگ کا میدان بننے سے بچانے کے لیے امریکا کو زیادہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، جس میں امریکہ بظاہر ابھی ناکام رہا ہے

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک اور امریکا کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، جہاں شراکت داری زیادہ متوازن اور شرائط پر مبنی ہوگی، اور خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے حوالے سے زیادہ مضبوط مؤقف اختیار کریں گے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں