گجرات کے تاریخی مقامات پر مشتمل پہلی تصویر گیلری، ‘یہاں شہر کی تاریخ ایک نظر میں ملتی ہے’۔

گجرات میوزیم میں شہر کے تاریخی مقامات پر مشتمل ایک منفرد تصویرگیلری قائم کی گئی ہے، جہاں شہری ایک ہی نظر میں اپنے ارد گرد آثار قدیمہ کے حوالے سے جان سکتے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی گیلری ہے جس میں کسی مخصوص علاقے کی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے نمائندگی دی گئی ہے۔

اس گیلری میں قدم رکھنے والا پورے گجرات ضلع کی ثقافت، تاریخ، آثار قدیمہ اور فن تعمیر کو دریافت کرسکتا ہے جبکہ دورہ کرنے کے لیے اپنی پسند کی جگہ کا انتخاب بھی کرسکتا ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ آثار قدیمہ پنجاب اقبال خان نے تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’ہماری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جہاں میوزیم قائم ہوجائے، اس علاقے کی تاریخی باقیات اور آثار قدیمہ کو بطور خاص توجہ دی جائے۔ قصور میں بھی ہم نے اس طرز کی تصویری گیلری قائم کی ہے۔ تاہم، گجرات میوزیم میں اب بھی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے،لیکن جلد ہی یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔’

ان کے مطابق’گجرات تاریخ کے ساتھ فن کے لحاظ بھی مالامال ضلع ہے۔ اس لیے تاریخ کے ساتھ انہوں نے وہاں کے فنون اور دستکاری کو بھی محفوظ رکھنے اور نمائش کے لیے لگانے کی ضرورت محسوس کی۔گجرات میوزیم کی تاریخ کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے، اس لیے اب بھی یہاں بہت سارے کام کرنے والے ہیں۔ ‘

سربراہ گجرات میوزیم یحیی سکندر نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’ہمارےہاں بہت سارے تاریخی مقامات کو وقت پر محفوظ نہیں کیا گیا۔ بہت ساری باقیات ختم ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ بابری مسجد واقعے کے ردعمل میں بھی یہاں کئی مندروں کو نقصان پہنچایا گیاتھا۔ ان عمارتوں کی دوبارہ تعمیر بھی مشکل معلوم ہوتی ہے۔’

ان کے مطابق ‘اس وجہ سے انہوں نے یہ گیلری بنائی تاکہ اگر ان کا وجود ختم بھی ہوجائے تو تاریخ کے طور ان کے پاس اس کی تصویریں موجود ہو۔’

گجرات میوزیم میں معاون محقق مبین الرحمان نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘یہ اپنی نوعیت کی پہلی گیلری ہے جو کسی مخصوص علاقے کی تاریخی مقامات کو جگہ دیتی ہے۔دیگر عجائب گھروں میں محفوظات،شخصیات اور باقیات سے متعلق کام ملتا ہے جبکہ گجرات کی اس میوزیم میں بطور خاص گجرات کی تاریخ ایک نظر میں ملتی ہے۔’

انہوں نے بتایا کہ’ ہم ضلع گجرات کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف بائیکر کلب سیاحوں کے ساتھ صوبائی دارالحکومتوں میں ‘عالمی یوم سیاحت’مناتے تھے۔ اس دوران ہم سے ہمیشہ گجرات کی سیاحت پر سوال پوچھے جاتے تھے کہ وہاں دیکھنے کے لیے کیا ہیں؟’

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے مبین اور ان کے ساتھیوں نے گجرات کو دریافت کرنا شروع کیا اور انہیں شہر میں ایک سو کے قریب تاریخی مقامات ملے۔ان میں مساجد، مقبرے، گردوارے، قلعے، اور کئی سالوں سے بند باغات شامل تھے۔

مبین نے کہا کہ ‘ ضلعی کشمنر احسان بھٹہ نے 2021 میں سولہ سال سے بند گجرات میوزیم دوبارہ کھولی، جہاں ابتدائی مرحلے میں چار گیلریز قائم کی گئی۔ان کو ہم نے اپنی دریافت دکھائی تو انہوں نے اسے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے گجرات کےتاریخی مقامات کے لیے الگ گیلری قائم کرنے کا وعدہ کیا۔’

اس کے بعد مبین نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آثار قدیمہ کے ساتھ مل کر اس گیلری پر کام کیا۔ ان کے مطابق ‘اس گیلری نے آثار قدیمہ کے حوالے سے لوگوں میں شعور کو بیدار کیا ہے۔ لوگوں نے بطور خاص اس بات کا اظہار کیاکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے آس پاس بھی اس طرح کی تاریخی جگہیں موجود ہیں۔’

اس گیلری کے پہلے مرحلے میں گجرات کے 48 تاریخی مقامات کو نمائش کے لیے لگایا گیا ہے،جس میں گجرات قلعہ،اورنگزیب عالمگیر کی زوجہ کا مقبرہ، بارہ دریاں،مغل دور کی باقیات،مختلف مندر ، آتش کدے،اداسی مذہب کی سمادھی، بابا لال سنگھ کی سمادھی، بادشاہی مسجد سے پچیس سال پہلے بننے والی شاہی مسجدقلعہ دارسمیت مختلف مقامات شامل ہیں۔

سکندر حیات کہتے ہیں کہ’گجرات میوزیم میں اس وقت ہمارے پاس پانچ گیلریز موجود ہیں۔ ایک گیلری میں ہم نے وادی سندھ کی تہذیب کو جگہ دی ہے جبکہ دوسری میں بدھ مت دور کی باقیات رکھی گئی ہیں۔گجرات میں تانبے کی ایک بہت بڑی صنعت ہوا کرتی تھی، جس کےلیے یہاں تیسری ایک گیلری مختص کی گئی ہے۔ اسی طرح چوتھی گیلری میں ہمارے ہاں مختلف ادوار کے سکے اور دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء موجود ہیں۔’

انہوں نے مزید کہا کہ’ایک گیلری میں مقامی کلچر اور روایات سے جڑی چیزیں نمائش کے لیے رکھی ہیں۔ جیسے تالوں سمیت مختلف آلے جو ان علاقوں کی خاصیت سمجھے جاتے تھے۔اس لحاظ سے تصویری گیلری سمیت گجرات میوزیم میں کل سات گیلریز قائم کی گئی ہیں۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں