وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے آئی سی سی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور پی سی بی کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح مشاورت کے نتائج سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
جاری کیے گئے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے پی سی بی کو بھیجی گئی باضابطہ درخواستوں کا جائزہ لیا، جبکہ سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک کی جانب سے موصول ہونے والی تائیدی مراسلت کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ ان خطوط میں پاکستان سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
بیان کے مطابق، حکومت نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام کے بیان کا بھی نوٹس لیا، جس میں بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کے کردار پر دلی تشکر کا اظہار کیا گیا تھا۔ حکومتِ پاکستان نے اس جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہر موقع پر بنگلہ دیش کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خوشگوار اور دوستانہ گفتگو میں اس بات کو یاد کیا گیا کہ پاکستان اور سری لنکا ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اس موقع پر سری لنکن صدر نے وزیرِ اعظم پاکستان سے موجودہ تعطل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی سنجیدہ درخواست کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کثیرالجہتی مشاورت کے نتائج اور دوست ممالک کی اپیلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے طے شدہ میچ میں شرکت کرے گی۔ حکومت نے پی سی بی کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ قومی ٹیم مقررہ تاریخ کو میدان میں اترے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کھیل کے اصل جذبے کو برقرار رکھنے اور عالمی سطح پر کرکٹ کے تسلسل اور فروغ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ تمام شریک ممالک میں اس کھیل کی روح سلامت رہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان اور پوری قوم نے قومی ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی کھیل کے میدان میں اعلیٰ کھیل، اسپورٹس مین اسپرٹ اور قومی وقار کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی اعزاز کے لیے بھرپور مقابلہ کریں گے۔