ایک کولیگ نے کل شام کہا کہ آپ گروسری وغیرہ جو چیزیں لانی ہوں ، آج ہی لے آئیں، کل دکانیں وغیرہ مکمل بند ہوں گی، کیونکہ اس جمعے کو حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا دن منایا جا رہا ہے۔ یہ آج کا گڈ فرائیڈے ہے، جسے جرمن میں کارفرائی ٹاگ (Karfreitag) کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں ہوگی کہ فی الواقع یہ Kara اور Freitag کا مجموعہ ہے، جرمن میں Kara کا مطلب افسوس یا دکھ ہے اور Freitag جمعے کو کہتے ہیں، یوں اس کا مطلب بنا دکھ ، ماتم یا افسوس والا جمعہ۔
اس دن کو منانے کی بنیاد بائبل کے وہ واقعات ہیں، جن کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یروشلم میں گرفتار کیا گیا، ان پر مقدمہ چلایا گیا اور پھر انھیں اذیتیں دینے کے بعد صلیب پر چڑھا دیا گیا۔ مسیحی تعلیمات کے مطابق، یہ دن حضرت عیسیٰ کی مصلوبیت (Crucifixion) اور وفات کی یادگار ہے، جسے وہ پوری انسانیت کے گناہوں کے کفارے (Atonement) اور نجات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کلیسا میں اس دن کوئی جشن نہیں ہوتا، بلکہ قربانی کی یاد میں شمعیں بجھا دی جاتی ہیں، کالے رنگ کے ملبوسات پہنے جاتے ہیں اور انتہائی غمگین موسیقی یا خاموشی کے ساتھ دعائیں کی جاتی ہیں تاکہ اس عظیم قربانی کی اہمیت کو محسوس کیا جا سکے۔ بیشتر یورپی ممالک میں اس دن سرکاری تعطیل ہوتی ہے اور عوامی زندگی میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ نظر آتا ہے۔ مختلف ممالک میں اس دن بڑے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں اور کلیساؤں میں خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں، جو صدیوں پرانی روایات کا تسلسل ہیں۔
جرمنی میں اس دن کی نوعیت دیگر یورپی ممالک سے ذرا مختلف اور زیادہ سنجیدہ ہے۔ یہاں اسے قانونی طور پر Stiller Feiertag یا خاموش تعطیل کا درجہ حاصل ہے۔ یعنی جرمن معاشرے میں اس دن شور و غل، رقص و سرود کی محافل اور عوامی کھیلوں پر قانونی پابندی ہوتی ہے، جسے ‘Tanzverbot’، یا ڈانسنگ پر پابندی کہا جاتا ہے۔ جرمن ریاست اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ دن کا تقدس اور سکون برقرار رہے، تاکہ لوگ دنیاوی چہل پہل سے ہٹ کر اپنی زندگیوں پر غور و فکر کر سکیں۔
اگر ہم اس روایت کو اسلام یا دیگر مذاہب کے تناظر میں دیکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ خدا کے ایک برگزیدہ بندے کی عظمتِ کردار پر غور کرنے کا موقع ہے۔ اسلام میں اگرچہ واقعہ صلیب کے حوالے سے عمومی طور پر ایک الگ موقف پایا جا تا ہے، جس کی رو سے حضرت عیسیٰؑ صلیب دیے جانے کی بجائے بحفاظت آسمان پر اٹھائے گئے، لیکن مسلمان چونکہ تمام انبیا کی راہ خدا میں جھیلی گئی تکالیف اور ان کی حق گوئی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس لیے حضرت مسیح کی یاد اپنے عقیدے کے اعتبار سے اہلِ اسلام کے یہاں بھی محمود عمل ہے۔ مزید برآں اسلامی تعلیمات میں تدبر وتفکر اور خاموشی میں نجات وغیرہ کی جو تاکید ملتی ہے، اس کو اس دن کے غور و فکر اور خاموشی سے جوڑا جائے، تو مسلمان بھی اپنے مذہب کی ان تعلیمات کے مطابق نیکی اختیار کرنے کی راہ اپنا سکتے ہیں۔ یوں یہ دن مختلف عقائد کے درمیان نفرت کے بجائے مکالمے اور ایک دوسرے کے مقدسات کے احترام کی سبیل پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
گوٹنگن یونی ورسٹی کی علمی فضا میں مذہبی ہم آہنگی کے نقطۂ نظر سے دیکھوں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ تعصب کی عینک اتار کر انسانیت اور امن کی مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے میں انسانیت کا بہت بھلا ہے۔ علم کا مقصد انسانوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ جوڑنا ہونا چاہے۔ ہمیں ایک ایسی دنیا کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیے، جہاں ہر عقیدے کا احترام اور علم و محبت کا نور عام ہو۔