سائنس دانوں نے 2025 کو تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار دے دیا

یورپی سائنس دانوں کے مطابق گزشتہ سال دنیا کو ریکارڈ کی تیسری گرم ترین گرمی کا سامنا رہا اور 2026 میں بھی درجۂ حرارت میں کمی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں عالمی اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جس کے ساتھ ہی گزشتہ 11 سال تاریخ کے گرم ترین سال ثابت ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 کا درجۂ حرارت 2024 سے صرف 0.13 ڈگری سینٹی گریڈ کم رہا، جو اب تک کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ یہ 2023 سے محض 0.01 ڈگری کم تھا، جو دوسرا گرم ترین سال تھا۔

اعداد و شمار میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پہلی مرتبہ 2023 سے 2025 کے دوران تین سالہ اوسط درجۂ حرارت پیرس معاہدے میں مقرر کردہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔

برطانیہ کے محکمہ موسمیات (میٹ آفس) نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے ریکارڈ کے مطابق 2025 تیسرا گرم ترین سال رہا۔ میٹ آفس کے ماہرِ موسمیات کولن مورس کے مطابق عالمی درجۂ حرارت میں طویل المدتی اضافہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی سرگرمیوں کے باعث بڑھتے ہوئے اخراج کا نتیجہ ہے۔

امریکی ادارے ناسا اور نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن بھی عالمی درجۂ حرارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کرنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ 2015 میں پیرس میں ہونے والے عالمی اجلاس میں تقریباً 200 ممالک نے عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کا عہد کیا تھا، تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی حدت کے باعث اس ہدف کے حصول پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دنیا کا دوسرا بڑا گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا ملک امریکا گزشتہ سال پیرس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر چکا ہے، جبکہ سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والا ملک چین بھی اخراج میں کمی کے اہداف کا اعلان کر چکا ہے، تاہم ماہرین ان اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ زمین کا درجۂ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر دنیا بھر میں بروقت وارننگ سسٹمز اور حفاظتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں