عالمی توانائی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے جبکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے شدید کوششیں کر رہے ہیں۔ بلوم برگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جاری جنگ میں جنگ بندی کے بغیر اس اہم آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر بحال کرنا انتہائی مشکل اور شاید ناممکن ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی انر جی کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی شکل میں سپلائی ہوتا ہے، لیکن ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں، بارودی سرنگوں کے خطرات اور سمندری راستوں پر کنٹرول کی وجہ سے اس گزرگاہ میں نیول شپنگ کی ٹریفک تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
اس کے نتیجے طور پر دنیا میں تیل کی پیداوار میں کمی، ایندھن کی قلت اور ایشیا، یورپ سے لے کر افریقہ تک قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایران آ بنا ئے ہر مز کی آ بی گزرگاہ پر عملی کنٹرول رکھتا ہے اور صرف اپنے حامی یا “دوست” ممالک کے جہازوں کو محدود بنیاد پر گزرنے کی اجازت دے رہا ہے، جیسا کہ حال ہی میں پاکستانی آئل ٹینکر ‘کراچی’ کے معاملے میں دیکھا گیا۔ ٹرمپ نے متعدد ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحری افواج بھیجیں تاکہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کی جا سکے، لیکن یورپی اتحادیوں سمیت بیشتر ممالک نے اس تجویز کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ کئی ایک نے تواس تجویز کی مخالفت بھی کی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل محفوظ بنانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اور اس کے لیے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا آ پشن ناگزیر ہے ورنہ عالمی توانائی کی سپلائی چینز مزید متاثر ہوں گی۔یہ بحران عالمی معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے جہاں تیل کی قیمتیں آسمان کوچھو رہی ہیں اور ایندھن کی فراہمی میں خلل کی وجہ سے صنعتیں اور صارفین دونوں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید حملوں کی دھمکیاں اور جنگ بندی کا کو یئ عملی منصو بہ نہ ہو نے کا سبب اس بحران کو طول دینے کا سبب بن رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کا خطرہ اب آ گے کا مستقل اقتصادی منظر نامہ ہے