امریکی وائلڈ لائف حکام نے زرافے کی نسل کے حوالے سے ایک سنگین انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زرافے کی آبادی خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ یو ایس فش اینڈ وائلڈ لائف سروس نے پہلی بار افریقی زرافے کو خطرے سے دوچار نسلوں کے ایکٹ کے تحت وفاقی تحفظ دینے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق زرافے کی نسل کے خاتمے کی بنیادی وجوہات میں رہائش گاہ کی کمی، غیر قانونی شکار، شہری آبادکاری، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی خشک سالی شامل ہیں۔
یو ایس فش اینڈ وائلڈ لائف سروس کی ڈائریکٹر مارتھا ولیمز کے مطابق یہ وفاقی تحفظ زرافے کی بقا، حیاتیاتی تنوع کے فروغ، اور ماحولیاتی نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا، زرافے کے اعضا اور مصنوعات کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ 2018 کی رپورٹ کے مطابق امریکی شکاری زرافوں کو شکار کرکے ان کے جسمانی اعضا افریقا سے واپس لاتے ہیں، جس سے زرافے کی نسل کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زرافے کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی اقدامات کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ منفرد اور قیمتی جانور مستقبل میں زمین سے ختم نہ ہو جائے۔