ساگ

زیادہ نہیں بس ابھی سے کوئی 20/22 سال پہلے تک جینریشن گیپ کی ساده نرم آرام دہ ٹرم استعمال ہوتی تھی ۔ بڑوں کی احتیاطی ٹہراو نصحتیں كڑوی لگا کرتیں تھیں ۔ تب سمجھ نہیں آتا تھا کہ یار یہ سمجھتے کیوں نہیں؟ ایسا کچھ نہیں ہوتا جیسا یہ باہر کی دنیا كو دیکھ رہے ہیں ۔ مزید بڑے ہوئے تو پتہ چلا یہ کِچھ کِچھ “جینریشن گیپ ” کہلاتی ہے اور ایسے ہی نسل در نسل چلتی رہتی ہے ۔ ہمیں بھی حوصلہ ملا کہ چلو ایڈے وی گناہ گار کینی ۔
پر سرکار اس سادہ سی ٹرمینالوجی سے اپنے ٹِڈے بڑے کرتے کرتے ہم آن پھنسے ہیں بومرز ،ملینیلز تے جینریشن زی تے اللّه جانے جینریشن الفا جیسی ٹرمز میں ۔ اب اس كو گیپ در گیپ كو سمجهنا اور سب کے ساتھ گزارا بھی کرنا ہے ۔
ایک گھر میں رہنے والے لوگ اور اتنی ساری جینریشنز کو ڈیل کرنا، ایک خاتون خانہ کا تو کام ودھ گیا نا ؟؟

ایک سادہ سی مثال لیتے ہیں ۔ ایک جینریشن ہے بھائی باسط بھٹی(سرائیکی مصنف، ریسرچر ، مترجم ) والی، دادی اماں کا ساری رات انگاروں پر پكایا ہوا ساگ صبح صبح مكهن روٹی کے ساتھ کھانے والی ۔ دوسری ہم ہیں جو ساری رات تو نہیں لیکن گھنٹوں مدھانی سے ماں كو ساگ گھوٹتا دیکھا کرتے تھے ۔ ویسے میرے میکے میں تو ساگ کے ساتھ چاول کی نمکین روٹی یعنی چلڑے کا رواج تھا ۔ اب ساری رات والا اور گھنٹوں گهوٹنے والے دونوں ساگ ٹھونس کر بیٹھ جانے والی “میری جیسی ” جینریشن كو جب جین زی اور الفا جینریشن كو ساگ كهلانا ہو تو شروع میں ساگ گھاس کے ہی سواد کا بنتا ہے جس کا ذائقہ لہسن کے خوشبودار دیسی گھی والے تڑکے کے بعد بھی شدھ دیسی گھاس جیسا ہوتا ہے ۔ ویسے کبھی گھاس کھایا تو نہیں پھر بھی میرا بنا ہوا ساگ ہوتا گھاس ہی ہوتا تھا ۔

احمد پور سے کوئی مہربان یا حق ہمسائے یا پھر میری ہیلپر ساگ فراہمی کا سورس رہے ۔ سالوں بعد ایک بار ایسی سردیاں آئیں کہ ساگ کہیں سے نہ آیا تو ہم نے خود اس ساگ کے طلسماتی کوڈ كو كریک کر لیا ۔
پھر اللّه بھلا کرے یوٹیوب والیوں کا کہیں سے ساگ کی ریشو سمجھ لی کچھ پوچھ پاچھ لیا ۔ جیسے ہمارے سسرائیل والے مولی شلجم بھی ڈالا کرتے ہیں ۔ کوشش کی وه ہی ریسیپی فالو کر لی جاۓ . ویسے ہر گھر کے اپنے رواج بھی ہوتے ہیں ۔ کہیں ساگ میں پالک ہوتی ہے اور کہیں ڈالنا پاپ ہے ۔ ایسے ہی پیاز کا معاملہ بھی ہے ۔ خیر سال ہا سال کی تحقیق سے آپ کی باجی نے ایک ایٹمی ساگ کا نسخہ بنا لیا ہے ۔ جو اس بڑھتے جینریشنز گیپ كو ایک ساتھ لا کر بیٹھا سکتا ہے ۔ جو مکئی کی روٹی ،مكهن اور ساگ ساری جینرشنز کی مشترکہ پسند بنا سکتا ہے ۔
ساگ میں کیا شامل ہوگا وه آپ اپنے حساب سے لے سکتے ہیں یا میری ریشو كو فالو کر لیں ۔

گندلاں فرض کیجئے دو کلو ،تو ایک کلو پالک، آدھا کلو باتهو اور ایک پاو میتھی، ایک بڑی مولی اور دو تین گونگلو کافی ہیں۔ ہری مرچ اک پاو ٹھوک دیں ۔ اب سب كو دھو دها کاٹ پیٹ لیں۔ صرف گندل کی كونپل نرم چاہیے ۔ لاهور میں تو اسی ریشو سے ہمارے ٹاون شپ ماڈل بازار والے ساگ سو روپے لے کر کاٹ بھی دیتے ہیں ۔اس کے بعد بس دھونا بڑے کھلے برتن میں ہے ۔ اچھی طرح دھو کے تھوڑے میں پانی میں بس “بلانچ” کر لیں ۔ بلانچ یعنی تھوڑے پانی میں یہ سب چیزیں بس مر مرا جائیں ۔ بہت ہوا تو آدھا پونا گھنٹا، اس سے زیادہ بوائل کی ضرورت نہیں ۔ جیا ! ٹھیک پڑھا کوئی گھنٹوں نہیں ابال سکتے ہم ۔ سوری ۔

ساگ بنانے کے لئے آپ كو ساگ پكانے کا خاص آلہ چاہیے ہوگا یعنی مدهانی دھو کر تیار رکھیں نہیں تو لكڑی والا ڈنڈا جو لہسن ادرک كوٹنے کے لیے کام آتا ہے وه ساتھ رکھ لیں ۔
پہلے تو چاپر نكالیں اور سب چوپ کر ڈالیں ۔ یاد رہے ہینڈ بلینڈر یا جگ والا بلینڈر استعمال نہیں کرنا ، اس میں ساگ لسی بن جائے گا ۔ چاپر میں سب ملیا میٹ نہیں ہوگا ۔ ہمیں بس اتنا ہی ساگ پیسنا ہے ۔ ڈرنا بالكل نہیں ہے کیوں کہ ڈر کے آگے تو جیت ہے ۔
چاپ کرنے کے بعد اب ہے آپ کی مرضی پیاز ،ٹماٹر ،ادرک جو بھی آپ کے گھر کے “بومرز” ایڈوائس کریں وه ہی ڈالیں کیوں کہ سب سے زیادہ كهپ انهوں نے ہی ڈالنی ہے ۔
آپ کے پاس اگر کڑھائی ہے تو تڑکا اسی میں لگائیں ۔

تیار ہو جائیں اب ہے ساگ پکانے کا آخری مرحلہ ۔ گھی گرم کریں ، کُٹی (کوٹی )ہوئی لہسن ڈالیں براون ہونے تک ۔جتنا ساگ آج کے دن کھانا ہے نکالیں اور ڈال دیں کڑاہی / کوئی بھی برتن جس میں آپ پکا رہے ہیں ۔ شروع میں آنچ کم رکھیں اور اب مدهانی یا ڈنڈے سے ساگ كو گهوٹنا شروع کریں ۔ صبر سے بس گول گول گھماتے جائیں ،گهوٹتے جائیں۔ کم از کم بیس منٹ آپ نے مسلسل گهوٹنا ہے ۔ پانی اور ساگ الگ ہو رہے ہیں تو بھنا ہوا بیسن یا خشک آٹے کے ایک آدھ چمچ کا چھڑکاو کریں اور گهوٹتے رہو ۔ سب کچھ میش اور کچھ کچھ لیس دار ہونا شروع ہو جائے گا تو آپ كو پتہ چل جاۓ گا یہ تیار ہے ۔ ورنہ انھے وا بیس منٹ گهوٹتے جائیں ۔ آخر میں پسند کے مطابق ہری مرچ تازہ،ہرا دهنیا ڈال سکتے ہیں ۔ یقین کریں اس طرح لاسٹ میں گهوٹ دینے سے آپ کا ساگ گھر میں موجود سبھی جینریشنز كو پسند آئے گا ۔ ان شا اللّه

Author

اپنا تبصرہ لکھیں