منڈی میں پھل چھانٹنے سے سوشل میڈیا ولاگنگ تک، ‘میں عوام اور کسان کو طاقتور بنانا چاہتا ہوں’

عدنان مایار اور سبزی منڈی کا جوڑ کوئی بیس سال پرانا ہے۔ وقت کی دوڑ اور زمانے کے اتار چڑھاؤ نے اس بندھن کو اس قدر مضبوط بنایا کہ سبزی منڈی ہی عدنان کا دوسرا گھر بن گیا۔ مردان سے تعلق رکھنے والے عدنان مایار اس وقت پی ایچ ڈی فنانس کے طالب علم ہے ، لیکن روزانہ کی بنیاد پرسبزی منڈیوں کی خاک چھانتے ہوئے کسانوں اور عوام تک سوشل میڈیا کے ذریعے پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں اورمعلومات پہنچاتے ہیں۔

عدنان اور منڈی کا یہ رشتہ کوئی عام قصہ نہیں، بلکہ زندگی کے حسین اور کڑوے تجربات کاامتزاج ہے جو ہمت اور حوصلے کی بدولت قابل تقلیدبن جاتا ہے۔بیس سال پہلے سن 2005 میں عدنان کی عمر محض پانچ سال تھی جب باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ یہی وجہ تھی کہ عدنان نے زندگی کی ناہمواریوں کے آگے بندھ باندھتےہوئے سبزی منڈی کا رخ کیا۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے عدنان مایار نے بتایا کہ’ تیس روپے یومیہ کے حساب سے رات بھر ٹماٹر کی چھانٹی میری پہلی مزدوری تھی۔ شاید یہ رقم کم معلوم ہوتی ہو لیکن میں نے کام پر بھرپور توجہ دینے کو ہی اپنا مقصد جانا تھا ۔ وقت گزرتا گیا، سردیوں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں کام کرنے منڈی پہنچ جایا کرتا تھا۔ اسکول کے دنوں میں گاؤں میں ہی کھیت کلیان میرے منتظر رہتے۔یوں مزدوری اور تعلیم کاسلسلہ بیک وقت جاری رہا۔’

مردان سے کالج میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد عدنان اسلام آباد منتقل ہوئے اور وہاں اکاؤنٹنگ کا تعلیمی سلسلہ شروع کیا۔اس دوران بی کام کے بعد فنانس میں ماسٹر کیا اور آج کل نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے اسی شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘میں مردان ، لاہور اور اسلام آباد کی منڈیوں میں کام کرچکا ہوں۔ میں نے منڈی کی مٹی میں پسینہ بہایا، ریڑھی کھینچی، ہوٹل پر کام کیا، لوڈنگ آف لوڈنگ کی، پیاز آلو مرچوں سے ہاتھ رنگے، مگر کبھی ہاتھ روکنے کا خیال نہیں آیا۔’

ان تجربات نے عدنان کو سبزی منڈی کے تمام تر معاملات میں ماہر بنادیا۔ انہیں منڈیوں میں قیمتوں بارے معلومات حاصل ہونے لگی، گویا منڈی سے متعلق ہر شے پردسترس حاصل ہوئی۔اس وجہ سے انہوں نے سال 2017 میں سبزی منڈی سے ولاگنگ کا سلسلہ شروع کیا اور آج کل ان کے فالورز دس لاکھ کا ہندسہ عبور کرگئے ہیں۔

عدنان مایار کا کہنا ہے کہ’ اس پیج کا مقصد کسانوں کو آگاہی فراہم کرنا تھا۔ انہیں اس بات علم دینا تھا کہ ان کے مال کے ساتھ منڈیوں میں کیا رویہ اپنایا جاتا ہے۔ کس طریقے اور کن مراحل سے ان کا مال خریداروں تک پہنچتا ہے۔ درمیان میں کتنے لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں۔ ان تمام تکنیکی معلومات کے ذریعے میں کسانوں کو طاقت ور بنانا چاہتا ہوں۔ ‘

عدنان نے ‘سبزی منڈی ود مایار’ نامی فیس بک پیج کے ذریعے اس سلسلے کو سال 2021 سے باقاعدگی کے ساتھ شروع کیا۔ عدنان کا یہ کام اب صرف سبزی منڈیوں تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ زراعت کے دیگر شعبوں تک بھی پھیل چکا ہے۔ وہ اسی فیس بک پیج کے ذریعے سبزیاں اور دیگر نت نئی مصنوعات کاشت کرنے کے طریقے بھی سکھاتے ہیں جس میں منڈی کی ضرورت کوسامنےرکھا جاتا ہے۔

عدنان مایار کے مطابق ‘ درآمدات کو کم کرنے کے لیے ہمارا مقصد ہوتاہے کہ وہ تمام تر چیزیں یہاں اپنی زمین پر اگائی جائے جبکہ ‘ایگری ٹوارزم ‘کی بحالی اورفروغ کے لیے بھی مواد بنانا ہمارے مطمع نظر ہوتا ہے۔’

ان کا ماننا ہے کہ’ مسلسل کمپین کرنے کے نتیجے میں مختلف درآمداتی اشیاء کی کاشت پاکستان میں بھی شروع ہوگئی ہے ، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر معیشت پر بوجھ کم ہورہا ہے۔اس کے علاوہ ہم سے متاثر ہوکر متعدد لوگوں نے اس شعبے سے متعلقہ کاروبار میں قدم رکھ لیے ہیں۔’

انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ’ہمیں بہت ساری سبزیاں اورپھل خود اگانے چاہیے ۔ اس سلسلے میں پاکستان خود کفیل ہوگا جبکہ نئے تجارتی راستے بھی کھلیں گے۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں