جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر ان کے سابق ساتھی کرکٹرز نے سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وکیل سلمان صفدر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ان کی جماعت نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان بھی کیا۔
دوسری جانب عمران خان کے سابق ساتھی کھلاڑیوں نے ان کی صحت سے متعلق اطلاعات پر سوشل میڈیا کے ذریعے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
سابق کپتان وسیم اکرم نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ سن کر دل دکھتا ہے کہ ہمارے کپتان صحت کے مسائل سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے امریکہ میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لیے عطیات جمع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کی خبر سن کر انہیں گہرا دکھ ہوا، اور وہ دعا گو ہیں کہ انہیں بہترین علاج میسر آئے اور وہ جلد صحت یاب ہوں۔

سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ صحت کی سہولت عمران خان کا بنیادی حق ہے اور انہیں یہ سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
وقار یونس نے اپنے پیغام میں کہا کہ سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے تو عمران خان قومی ہیرو ہیں جنہوں نے کھیل کے میدان میں ناقابلِ فراموش کامیابیاں دلائیں اور جن کے قائم کردہ کینسر ہسپتال نے ہزاروں افراد کو زندگی کی امید دی۔ ان کے بقول انہیں بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

سابق کپتان اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا کہ عمران خان کو تکلیف میں دیکھنا اور ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی خبر سننا انتہائی افسوسناک ہے۔

بھارت کے سابق کرکٹرز نے بھی عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سابق بھارتی کھلاڑی اجے جدیجا نے ایک بیان میں کہا کہ کئی بھارتی شہری عمران خان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ بعض پاکستانی سابق اور موجودہ کرکٹرز کی خاموشی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
