محفوظ شدہ غذاؤں میں شامل کیمیکلز اور کینسر کے خطرات بڑھا سکتا ہے، تحقیق

ایک تازہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزمرہ استعمال کی جانے والی کئی محفوظ شدہ غذاؤں میں شامل بعض مصنوعی کیمیکلز انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کا زیادہ استعمال کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

یہ تحقیق عالمی شہرت یافتہ طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہوئی ہے، جسے فرانس کی یونیورسٹی سوربون پیرس نارتھ سے وابستہ ماہرین نے انجام دیا۔ اس مطالعے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے طویل المدتی غذائی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تاکہ خوراک میں شامل فوڈ پریزرویٹوز کے اثرات کو جانچا جا سکے۔

تحقیق میں شامل افراد کی عمریں 15 سال سے زیادہ تھیں اور مطالعے کے آغاز پر کوئی بھی فرد کینسر کا مریض نہیں تھا۔ شرکاء سے ان کی روزمرہ خوراک کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی گئیں، جن میں 24 گھنٹوں کے غذائی ریکارڈ شامل تھے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ کس مقدار میں محفوظ رکھنے والے کیمیکلز استعمال کر رہے ہیں۔ ان افراد کو اوسطاً سات سال سے زائد عرصے تک زیرِ نگرانی رکھا گیا۔

فالو اپ کے دوران ہزاروں افراد میں مختلف اقسام کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ تجزیے سے پتا چلا کہ وہ افراد جو بعض خاص فوڈ پریزرویٹوز کا زیادہ استعمال کرتے تھے، ان میں کینسر ہونے کا امکان نسبتاً زیادہ تھا۔

محققین کے مطابق نان اینٹی آکسیڈنٹ پریزرویٹوز، سوربیٹس، سلفائٹس، نائٹرائٹس، ایسیٹیٹس اور سوڈیم اریتھوربیٹ جیسے کیمیکلز کے زیادہ استعمال کو کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا۔ بعض اضافی اجزا خاص طور پر چھاتی کے کینسر سے تعلق رکھتے پائے گئے، جبکہ سوڈیم نائٹریٹ کا زیادہ استعمال پروسٹیٹ کینسر کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو افراد ان مخصوص کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں مجموعی طور پر کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر خواتین میں چھاتی کے کینسر کا امکان زیادہ دیکھا گیا۔

تاہم ماہرین نے وضاحت کی کہ تمام فوڈ پریزرویٹوز کو یکساں طور پر نقصان دہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کئی کیمیکلز کے حوالے سے کینسر سے کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قدرتی، تازہ اور کم پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال صحت کے لیے بہتر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کیمیکلز کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر غذائی رہنمائی فراہم کی جا سکے

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں