کیلے کے چھلکے کا آٹا، صحت کا خزانہ

عام طور پر پھینک دیے جانے والے کیلے کے چھلکوں میں ایسے حیران کن فوائد پوشیدہ ہیں کہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ تازہ سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کیلے کے چھلکوں کو ابال کر، خشک کر کے اور پیس کر حاصل ہونے والا آٹا نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہوتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بےحد مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ویب سائٹ ’’سائنس الرٹ‘‘ کے مطابق، ماہرین نے کیلے کے صاف چھلکوں کو خشک کر کے آٹا تیار کیا اور پھر اسے گندم کے آٹے میں ملا کر مختلف غذائیں تیار کیں۔ ان غذاؤں کا ذائقہ جانچنے کے لیے 20 ماہر باورچیوں کی مدد لی گئی جنہوں نے اس کیک کو ذائقے کے لحاظ سے خوب سراہا۔ خاص طور پر 7.5 فیصد کیلے کے چھلکے والے آٹے سے تیار کیا گیا کیک بہت پسند کیا گیا اور اس کا ذائقہ عام کیک سے مختلف نہیں پایا گیا۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کیلے کے چھلکے کا آٹا غذائی اعتبار سے بے حد فائدہ مند ہے۔ اس سے بننے والی اشیاء فائبر، میگنیشیم، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں، جو نہ صرف جسمانی افعال کو بہتر بناتے ہیں بلکہ کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایک اور اہم دریافت یہ ہوئی کہ اگر گندم کے آٹے میں 10 فیصد کیلے کے چھلکے کا آٹا شامل کیا جائے تو روٹی میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جہاں عام گندم سے بنی خشک غذائیں چند ماہ میں اپنی غذائیت کھو دیتی ہیں، وہیں کیلے کے چھلکے سے بنی غذاؤں میں تین ماہ بعد بھی ’اینٹی آکسیڈنٹس‘ کی مقدار برقرار رہتی ہے جو جسم کے اعضا کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کیلے کے چھلکوں کو مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف غذاؤں کو مزید صحت بخش بنا سکتے ہیں بلکہ ان کے ذائقے میں بھی کوئی کمی نہیں آتی۔ اس لیے اب کی بار کیلا کھانے کے بعد اس کا چھلکا نہ پھینکیں بلکہ اسے صحت مند زندگی کا حصہ بنائیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں