سیلاب؛ تباہی کے بعد تباہی

یہ سیلاب محض پانی کا ریلا نہیں بلکہ آنے والے مہینوں اور برسوں کا ایک کڑا امتحان ہے، پانی اترنے کے بعد جو منظرنامہ ابھرے گا وہ شاید زیادہ ہولناک ثابت ہو، اجناس کی قلت، خوراک کا بحران اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی آسمان چھوتی قیمتیں عام شہری کی کمر توڑ دیں گی،

کارل مارکس نے شاید بلکل ٹھیک کہا تھا، آفتیں غریبوں کیلئے تباہی امیروں کیلئے تجارت ہوتی ہیں، یقیناً اب فصلوں کی بربادی، ذخائر کی بربادی اور کسانوں کی تباہی کا مطلب ہے کہ گندم، سبزیاں، مرغی، گوشت، مچھلی سب کچھ سونے کے بھاؤ بکے گا، چارہ، ونڈا اور کھل مہنگا ہونے سے جانور پالنا ناممکن ہوتا جائے گا، جانوروں اور مویشیوں کی ہلاکت کے بعد خوراک کی پیداوار مزید کم ہوگی، یوں سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن ایسا بگڑے گا کہ ہر گھر کا چولہا بجھنے لگے گا،سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا، سیلاب زدہ علاقے تو برسوں پیچھے چلے جائیں گے، مگر جو شہر اور بستیاں ابھی محفوظ نظر آرہے ہیں وہ بھی اس بحران کی زد میں آئیں گے، یہ المیہ ہے کہ تباہی صرف پانی میں ڈوبنے سے نہیں آتی، کبھی کبھی اس کے بعد کے حالات زیادہ کچل دیتے ہیں،

سیلاب متاثرین اس وقت کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں، ان کے گھروں کی بنیادیں بہہ چکی ہیں، کھیت کھلیان مٹی میں مل چکے ہیں، مویشی بہہ گئے ہیں اور روزگار ختم ہو چکا ہے، عورتیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے ملبے پر بیٹھی ہیں، بچے بھوک اور بیماری سے نڈھال ہیں، بزرگ بے بسی کی تصویر بنے ہیں اور نوجوان روزگار کے مواقع ڈوب جانے کے بعد مایوسی کے سمندر میں غوطہ کھا رہے ہیں، نہ خیمے ہیں، نہ صاف پانی، نہ علاج معالجہ، اور نہ ہی کوئی فوری سہارا، یہ لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی زمین، اپنا سرمایہ اور اپنی محنت کا صلہ پانی میں بہتا دیکھ رہے ہیں،

حالات میں ریاست اور حکومتی اداروں کی نااہلی کھل کر سامنے آ گئی ہے، بڑے بڑے دعوے کرنے والے سیاست دان آفت کے دنوں میں بھی سیاست چمکانے میں لگے ہیں، امدادی سامان تصویریں کھنچوانے کے بعد غائب ہو جاتا ہے، متاثرین قطاروں میں کھڑے خالی ہاتھ لوٹتے ہیں اور حکمران ہیلی کاپٹروں سے صرف دوربینوں کے ذریعے تماشا دیکھتے ہیں، جن اداروں کا فرض تھا کہ پہلے سے بند باندھتے، حفاظتی انتظامات کرتے، امدادی پلان بناتے، وہ کاغذوں میں منصوبے بنا کر فائلوں میں دفن کرتے رہے، نتیجہ یہ نکلا کہ سیلاب نے سب کو بہا دیا اور عوام بے یارومددگار رہ گئے، عالمی برادری بھی اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہی ہے، جہاں جنگ چھڑتی ہے وہاں اسلحہ کے انبار بھیجے جاتے ہیں، لیکن جب لاکھوں انسان پانی میں ڈوبتے ہیں تو صرف رسمی بیانات جاری کیے جاتے ہیں، عالمی ادارے اور این جی اوز امداد کے نام پر اپنے دفاتر اور اسٹاف کے اخراجات پورے کرتے ہیں، حقیقی متاثرین تک امداد کا عشر عشیر بھی نہیں پہنچ پاتا، یوں یہ آفت انسانیت کا امتحان بھی ہے جس میں دنیا اکثر ناکام دکھائی دیتی ہے،

اور آخر میں ذکر اُن کا جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں، عوام بھوکے مریں یا سیلاب میں ڈوبیں، ان کے محلوں کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی، تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں نے ہمیشہ اپنی سیاست اور تجوریاں بھری ہیں، عوام کی تقدیر سنوارنے کی کبھی فکر نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ تباہی عوام کی ہے، آسائش اقتدار والوں کی، عوام کی چیخیں فضا میں گم ہو جاتی ہیں مگر ایوانوں کی فضائیں ہمیشہ قہقہوں اور سازشوں سے گونجتی رہتی ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں