سوشل میڈیا پر پہلا آن لائن کتاب میلہ، “پونے تین لاکھ روپے کی کتب فروخت ہوئیں”

ڈیجیٹل میڈیا کی بے ہنگم دوڑ میں، جہاں نت نئے تنازعات جنم لیتے ہیں، وہیں کچھ نوجوان اسے علمی میدان سمجھتے ہوئے کتاب دوستی کے فروغ کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کتابوں کی آن لائن خرید و فروخت نے کئی چھوٹے بڑے کاروباروں کو دوام بخشنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اس شعبے میں ترقی نے نہ صرف کتب بینی کے شوقین افراد کو سہولت فراہم کی ہے بلکہ نوجوانوں کو کتابوں کے کاروبار کی طرف بھی راغب کیا ہے۔

گزشتہ سال تاشقند اردو پر شائع ہونے والی سرگودھا کے عمر فاروق کی کہانی بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کرتی تھی، لیکن اس خرید و فروخت کے ساتھ آن لائن کتاب میلے کے انعقاد کا تصور اب تک محال تھا۔

تاہم عید کے دنوں میں سماجی رابطے کے پلیٹ فارم فیس بک پر اپنی نوعیت کی ایک منفرد سرگرمی دیکھی گئی، جہاں صارفین تین روز تک مسلسل کتابوں کی خرید و فروخت کرتے نظر آئے۔

اس سرگرمی کو آن لائن تین روزہ کتاب میلے سے منسوب کیا گیا، جس میں پبلشروں کی جانب سے پچاس فیصد رعایت کے ساتھ کتب کے اسٹال لگائے گئے۔ اس میلے میں اوراق چھوئے بغیر ہزاروں کی تعداد میں کتب فروخت ہوئیں۔

یہ ساری سرگرمی فیس بک پر قائم “کتاب کہانی” نامی گروپ کے اندر منعقد کی گئی۔ اس کے طریقہ کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ اس کا سہرا قطر میں مقیم ضلع خانیول کے علی رضا کے سر جاتا ہے، جنہوں نے عید سے پہلے سوشل میڈیا پر اس کا آغاز کیا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “ہاں جی دوستوں! عید کے پہلے تین دن، آن لائن کتاب میلہ ہوجائے؟” اس پوسٹ پر کتب بینی کے شوقین افراد اور پبلشروں نے بڑی تعداد میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے علی رضا نے بتایا کہ “اس پوسٹ کے پیچھے بنیادی محرک عید کے دنوں کو کارآمد اور تخلیقی بنانا تھا۔ اس پوسٹ پر تقریبا تین لاکھ لوگوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا جبکہ پبلشروں نے بھی رابطے شروع کیے۔”

علی رضا فیس بک پر “کتاب کہانی” کے عنوان سے ایک گروپ چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “اس گروپ میں موجود پبلشروں کے رابطے کے بعد، میں نے انہیں سٹال نمبرز دیے، جو تقریبا 13 کی تعداد میں تھے۔”

“اگرچہ رجسٹریشن کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی، تاہم 13 پبلشروں نے اپنے اپنے سٹال نمبر کے ساتھ گروپ میں پوسٹیں کیں۔ ان پوسٹوں میں کتابوں کے سرورق کی تصاویر، پچاس فیصد رعایت کے ساتھ قیمت، اور فہرست شامل تھیں۔”

علی رضا کے مطابق پبلشروں اور خریداروں نے اس سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تین دنوں میں تقریبا پونے تین لاکھ روپے کی کتب خریدی گئیں، جو عید کی چھٹیوں کے بعد بذریعہ ڈاک بھیج دی گئیں۔

ہم نے ‘کتاب کہانی’ گروپ میں خریداروں کے تبصروں بھی دیکھے، جن میں لوگ اپنے اطمینان کا اظہار کر رہے تھے اور ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کو معمول بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ علی رضا نے مزید بتایا کہ وہ بڑی عید پر بھی اس سرگرمی کو دہرائیں گے اور اسے معمول کے طور پر ہر عید کا حصہ بنائیں گے۔

کتب بینی کے شوقین افراد کے لیے بھی یہ تجربہ نہایت مفید ثابت ہوا۔ محمد عمران نامی ایک شہری کہتے ہیں کہ ” انہوں نے ان دنوں میں 13 کتب با آسانی گھر بیٹھے پچاس فیصد رعایت کے ساتھ منگوائیں۔ میں باقاعدگی سے کتاب میلوں میں جاتا ہوں لیکن اس تجربے میں قدرے سہولت اور آسانی محسوس ہوئی۔”

انہوں نے بتایا کہ “آن لائن کتاب میلے باآسانی مختصر وقت میں منعقد کیے جا سکتے ہیں کیونکہ متفرق آن لائن خریداری کے برعکس، اس میں سب کی بیک وقت شرکت سے سوشل میڈیا پر ایک علمی فضا ضرور جنم لیتی ہے۔”

کتاب میلوں میں پبلشروں کی دلچسپی ایک بنیادی عمل کا کردار ادا کرتی ہے۔ شبد گھر پبلیکیشن سے تعلق رکھنے والے اقرار تبسم نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “آن لائن کتاب میلے میں شرکت فزیکل بک فیئر سے بہت آسان تھی۔ سب سے پہلے رجسٹریشن کا مرحلہ تھا جو بغیر کسی فیس کے نمبر الاٹ کرنے پر مشتمل تھا۔ اس کے بعد کتب کی فہرست، اور رعائتی قیمتوں پر مشتمل ایک پوسٹ کی جاتی تھی۔”

فیزیکل کتاب میلے میں کتب سجا کر کسٹمرز کے سامنے رکھی جاتی ہیں اور اس میں مشقت بھی زیادہ ہوتی ہے، لیکن اقرار تبسم کے مطابق یہاں معاملات اس سے بہت مختلف اور بالکل برعکس تھے۔ رجسٹریشن کے بعد صرف فہرست اور تصاویر مہیا کرنا تھیں۔

اقرار تبسم سے کتاب کہانی کے آن لائن میلے میں 300 سے زائد کتب فروخت ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “فیزیکل کتاب میلے میں جگہ کا رینٹ، آنے جانے کے سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ لوڈنگ و ان لوڈنگ کے اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ آن لائن کتاب میلے میں سیلر کے اخراجات بالکل ختم ہو جاتے ہیں اور خریداروں کو بھی کتب باآسانی مہیا ہو جاتی ہیں۔”

Author

اپنا تبصرہ لکھیں