جرمانے یا جبر؟ عوامی مشکلات اور ٹریفک نظام کی اصل خرابی

لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں ٹریفک جرمانوں میں حالیہ اضافے نے عوامی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بھاری جرمانے ہی عوام کو قوانین کا پابند بناتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ٹریفک نظام کی کمزور بنیادوں، ناقص منصوبہ بندی، اور انتظامی تضادات نے شہریوں کے لیے مشکلات دوچند کر دی ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے مختلف نمائندے اور اعلیٰ افسران ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ٹریفک قوانین، شہری نظم و ضبط اور روڈ سیفٹی پر لمبے لیکچرز دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اکثر میڈیا پر اپنی کامیابیوں کے ڈھنڈورے پیٹتے نظر آتے ہیں، مگر اگر کوئی شہری زمینی صورتحال دیکھے تو تصویر بالکل مختلف ہے۔ سول سیکریٹریٹ سے لے کر ڈپٹی کمشنر آفس لاہور تک مرکزی سڑک پر غیر قانونی پارکنگ کا راج ہے۔ فٹ پاتھوں پر، سڑک کے کناروں پر، اور حتیٰ کہ ٹریفک لین کے اندر تک موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ سی ٹی او لاہور نہ صرف اس غیر قانونی پارکنگ کو ختم کروانے میں ناکام رہے ہیں بلکہ آج تک اس کا کوئی متبادل منصوبہ بھی سامنے نہیں لا سکے۔

یہ حال صرف سیکریٹریٹ یا ڈی سی آفس کے ارد گرد نہیں بلکہ پورے لاہور کا ہے۔ شہر کے ہر دوسرے چوک پر سڑکیں پارکنگ اسٹینڈز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کوئی مربوط منصوبہ بندی، کوئی سائن بورڈ، کوئی مخصوص پارکنگ زون نہیں۔ شہری مجبوری میں جہاں جگہ ملتی ہے وہاں گاڑی کھڑی کر دیتے ہیں، اور پھر انہی گاڑیوں پر بھاری جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں۔ حکومت یا افسران بالا چاہے جس کی مرضی ہو، عملی سطح پر کسی قابلِ ذکر بہتری کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ منصوبہ بندی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ریاست خود شہری سہولیات فراہم نہیں کر رہی تو محض جرمانوں سے عوام سے قانون پسندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ لاہور جیسے میٹروپولیٹن شہر میں آج بھی روڈ میپنگ، پارکنگ، اور ٹریفک فلو کے لیے کوئی جدید نظام موجود نہیں۔ معمولی سی رکاوٹ ہو یا سگنل فیل ہو جائے، پورا شہر جام ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب حکومت کا سارا زور چالان بڑھانے پر ہے، نہ کہ سسٹم درست کرنے پر۔

دنیا بھر میں ٹریفک قوانین کی پابندی صرف سخت سزاؤں سے نہیں، منصفانہ نظام اور سہولتوں سے آتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جرمانے بظاہر زیادہ ضرور ہیں مگر ان کے ساتھ بہتر انفراسٹرکچر، سڑکوں کی منصوبہ بندی، اور لائسنس پوائنٹ سسٹم جیسے موثر انتظامات بھی موجود ہیں۔ وہاں قانون کا نفاذ متوازن ہوتا ہے، صرف نچلے طبقے پر نہیں۔

پنجاب میں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ خراب سڑکیں، غیر تربیت یافتہ اہلکار، ناکارہ ٹریفک سگنلز، اور عوامی سہولتوں کا فقدان — سب کچھ ایک غیر مربوط نظام کا پتہ دیتے ہیں۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں پر روزانہ کے چالان پورے کرنے کا دباؤ ہے، جس کے باعث شہریوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ عام ہو چکا ہے۔ ایک مزدور یا ریڑھی بان جو بمشکل روزانہ کی روٹی کماتا ہے، وہ اگر غلطی سے سگنل کراس کر لے تو ہزاروں روپے کا جرمانہ اس پر آسمانی بوجھ بن جاتا ہے۔

یہ سب عوامل عوام میں قانون سے بدظنی پیدا کر رہے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ ٹریفک نظام عوام کی سہولت نہیں بلکہ کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری قانون کی بجائے اہلکاروں سے بچنے کے طریقے ڈھونڈنے لگے ہیں۔ یہ نظام کے لیے خطرناک ترین علامت ہے۔عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ حادثات انہی ملکوں میں ہوتے ہیں جہاں سڑکوں کی حالت خراب اور قانون نافذ کرنے کا معیار کمزور ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے آمدنی کے حساب سے جرمانے (Proportional or Day Fines) متعارف کروا کر انصاف کا توازن قائم رکھا ہے۔ فن لینڈ، جرمنی اور سوئیڈن میں کوئی امیر شخص اگر خلاف ورزی کرے تو جرمانہ لاکھوں تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ غریب شخص کی خطا کا معاوضہ اس کی آمدنی کے تناسب سے ہوتا ہے۔ یہی انصاف کا اصول ہے جو پاکستان میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
پنجاب حکومت اگر واقعی سڑکوں کو محفوظ بنانا چاہتی ہے تو اسے صرف جرمانوں پر نہیں بلکہ نظامی اصلاحات پر توجہ دینی ہوگی۔

1. سڑکوں کی فوری مرمت اور نشانات کی بحالی۔

2. منظم پارکنگ زونز کی تشکیل۔

3. اہلکاروں کی تربیت اور عوام سے شائستہ رویہ۔

4. ٹریفک ایجوکیشن کورسز اور آگاہی مہمات۔

5. عوامی آمدنی کے مطابق جرمانوں کا تعین۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سڑکوں پر نظم و ضبط کا تعلق شہریوں کی عزتِ نفس سے ہے۔ جب شہری دیکھیں گے کہ قانون سب پر برابر لاگو ہوتا ہے، سہولتیں میسر ہیں، اور اہلکار مدد کے جذبے سے کام کرتے ہیں، تو وہ خود بخود قانون کے احترام میں شریک ہوں گے۔

بھاری جرمانے، میڈیا لیکچرز اور سیاسی بیانات وقتی دکھاوا ہیں حقیقی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب حکومت عوام کو نظام کا حصہ بنائے، نہ کہ اس کے بوجھ تلے دبائے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں