ایسے ممالک کم ہیں جو پاکستان انڈیا کشیدگی میں ثالتی کا کردار ادا کریں، مائیکل کوگلمین

جنوبی ایشیائی امور کے ماہر، مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایسے ممالک کی تعداد نہایت محدود ہے جو ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔
بھارتی خبر رساں ادارے، اے این آئی سے گفتگو میں مائیکل کوگلمین نے کہا کہ، عالمی سطح پر عمومی اتفاق موجود ہے کہ، اس کشیدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے، تاہم ان کے خیال میں چند ہی ممالک ایسے ہیں جو اس بحران کے دوران مؤثر ثالث بن سکتے ہیں۔
امریکہ کے ممکنہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، امریکہ کے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، اور ماضی میں امریکہ نے ثالثی کے حوالے سے متحرک کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر 1999 کے کارگل تنازع اور 2019 کے بحران کے دوران۔ تاہم، اس بار ممکن ہے کہ، امریکہ اتنی سرگرمی نہ دکھائے۔
امریکی نائب صدر، جے ڈی وینس کے حالیہ بیان کے تناظر میں کوگلمین کا کہنا تھا کہ، وہ بیان دراصل ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کے مطابق،یہ پالیسی یہی ظاہر کرتی ہے کہ، امریکہ کو عالمی تنازعات میں زیادہ مداخلت کی ضرورت نہیں۔ اگرچہ امریکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے، لیکن وہ اس حوالے سے کسی بڑے کردار کی طرف بڑھنے کو تیار نہیں، اور یہ سابقہ ٹرمپ حکومت کی پالیسی سے ایک نمایاں تبدیلی ہو گی۔
واضح رہے کہ، نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ، امریکہ ایسی کسی جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا جس سے اس کا براہ راست تعلق نہ ہو۔ ان کا کہنا تھاکہ،ہم بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، البتہ سفارتی کوششوں کا راستہ ضرور اختیار کیا جا سکتا ہے۔
مائیکل کوگلمین نے مزید کہا کہ، موجودہ بحران کے دوران چین کا کردار محض سفارتی حد تک محدود نہیں، بلکہ سکیورٹی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ،چین پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اور ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ، حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے چینی اسلحہ یا چین میں تیار کردہ ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں