دنیا بھر میں غیر فعال طرزِ زندگی، فروزن اور پروسیسڈ فوڈ، چینی اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے فیٹی لیور ایک عام بیماری بنتی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر اس کی بروقت تشخیص نہ کی جائے تو یہ بیماری نان الکولک اسٹیٹو ہیپاٹائٹس (NASH)، فائبروسِس، سائروسس، اور بعض صورتوں میں جگر کے کینسر تک کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی علامات پر توجہ دے کر بروقت علاج اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے جگر کو ہونے والے مستقل نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ فیٹی لیور کی نمایاں علامات میں وزن میں اضافہ، خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی بڑھنا، مستقل تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہونا، پیٹ کے دائیں اوپری حصے میں درد یا بھاری پن، اور بلڈ شوگر لیولز میں غیر معمولی اضافہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پیشاب اور پاخانے کے رنگ میں تبدیلی، زرد آنکھیں اور جلد، جسم میں کولیسٹرول کی بلند سطح، اور خون کے جمنے والے پروٹینز کی کمی بھی فیٹی لیور کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ یہ علامات جگر کی کارکردگی متاثر ہونے کی واضح علامات ہیں اور فوری طبی توجہ کا تقاضا کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوراً طبی مشورہ لینا ضروری ہے تاکہ جگر کو شدید نقصان سے بچایا جا سکے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے فیٹی لیور کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور جگر کی صحت برقرار رکھی جا سکتی ہے