ماہرین کے مطابق فیٹی لیور یعنی جگر میں چربی کا بڑھنا کئی خطرناک بیماریوں کی علامت ہوسکتا ہے، اس لئے اسے ایزی نہ لیا جائے۔
جگر میں چربی کا جمع ہونا ابتدائی طور پر بے ضرر لگ سکتا ہے، لیکن بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ کئی سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ دیگر اہم اعضاء بھی متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے جلد تشخیص اور علاج بہت ضروری ہے۔ فیٹی لیور سے درج زیل مسائل پیدا ہوسکتے ہیں:
1 – میٹابولک سوزش
اگر جگر میں چربی بڑھتی رہے تو یہ “میٹابولک سوزش والے جگر” (MASH) میں بدل سکتی ہے، جس سے جگر کے خلیے خراب اور سوزش شروع ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ کیفیت جگر کی سختی یا سرطان میں بدل سکتی ہے۔
2 – دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں
اگرچہ یہ بیماری جگر سے جُڑی ہے، لیکن اس میں مبتلا افراد کی موت اکثر دل کے مسائل سے ہوتی ہے۔ جگر میں چربی دل کی شریانوں میں چکنائی جمع ہونے، ہائی بلڈ پریشر اور سوزش کا سبب بن سکتی ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ 1.5 سے 2 گنا بڑھ جاتا ہے۔
انسولین کی مزاحمت
جگر کی چربی انسولین کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے، جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہو سکتی ہے۔ ایک بار ذیابیطس ہونے کے بعد جگر کی بیماری تیزی سے بڑھتی ہے۔
3 – گردوں کی بیماریاں
جگر کی چربی، ذیابیطس اور مسلسل سوزش … گردوں کی کارکردگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ایسے افراد میں دل کی بیماریاں اور فالج کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جگر کا برباد ہونا خود بھی گردوں کی خرابی سے جُڑا ہوا ہے۔
4 – ہارمون کی خرابیاں
جگر میں چربی کئی ہارمونی مسائل جیسے کہ پولی سسٹک اووری سنڈروم، تھائرائیڈ کی خرابی اور میٹابولک ہارمونز کے عدم توازن کا باعث یا نتیجہ بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ بظاہر صحت مند افراد بھی جگر میں چربی کے مسئلے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اہم ہدایات
اگر کسی کو موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا جگر کے انزائمز میں مستقل اضافہ ہو تو فوری ماہر معالج سے رجوع کریں۔
اس کی درج ذیل علامات ہو سکتی ہیں :
مسلسل تھکن یا ذہنی الجھن
دائیں جانب پیٹ میں درد
وزن میں بغیر وجہ کمی، جسم پر سوجن یا جلد/آنکھوں کا پیلا پن
یہ علامات جگر کی حالت بگڑنے کا اشارہ ہو سکتی ہیں، جنھیں سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ بروقت علاج کے ذریعے پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔