خاندانوں نے آپریشن سندور کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا، بچوں کے نام سندور رکھے گئے، نریندر مودی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ پروگرام میں بات کرتے ہوئے آپریشن ’سندور‘ کے دوران بھارتی افواج کی جانب سے دکھائی گئی جرأت اور مہارت کو سراہا اور کہا کہ، اس سے ہر بھارتی کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ، جس طرح ہماری افواج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، وہ نہ صرف لائق تحسین ہے، بلکہ پوری دنیا کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ، بھارت دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نہ صرف سنجیدہ ہے، بلکہ پوری طرح تیار بھی ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ، یہ آپریشن محض ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ یہ نئے بھارت کے عزم، حوصلے اور صلاحیت کا مظہر ہے، جس نے پورے ملک میں حب الوطنی کی ایسی لہر دوڑا دی ہے جو عوام کے جذبات کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ اُن کے بقول، ملک کے طول و عرض میں ریلیاں نکالی گئیں، شہروں اور دیہات میں انڈین جھنڈے لہرائے گئے، اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے، تاکہ اپنے سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ، چندی گڑھ جیسے شہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سول ڈیفنس والنٹیئر بننے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سوشل میڈیا پر ملی نغمے گونجنے لگے، اور نظمیں لکھی گئیں۔ مودی نے یہ بھی ذکر کیا کہ، بیس دن قبل جب وہ بیکانیر گئے تو بچوں نے انہیں ایک پینٹنگ تحفے میں دی جو ان کے جذبے کی عکاسی تھی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ، کئی خاندانوں نے آپریشن سندور کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیا ہے، حتیٰ کہ بہار کے کٹیہار، یوپی کے کشی نگر اور دیگر شہروں میں پیدا ہونے والے بچوں کے نام ’سندور‘ رکھے گئے ہیں، جو محض نام نہیں، بلکہ فخر، محبت اور قومی جذبات کی علامت بن چکے ہیں۔

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں صرف سپاہیوں کی بہادری ہی نہیں، بلکہ بھارت میں تیار کردہ ہتھیاروں، آلات اور جدید ٹیکنالوجی کا بھی کلیدی کردار تھا۔ اُن کے مطابق، یہ ’آتم نربھر بھارت‘ یعنی خود انحصاری کا واضح ثبوت ہے، جو بھارتی انجینئرز، سائنس دانوں اور کاریگروں کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔

مودی نے کہا کہ، اسی جذبے نے ’ووکل فار لوکل‘ کی مہم میں نئی جان ڈال دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ، کچھ والدین نے فیصلہ کیا ہے کہ، اب وہ اپنے بچوں کے لیے صرف بھارت میں تیار شدہ کھلونے خریدیں گے، تاکہ ان میں بچپن سے حب الوطنی کے جذبات پیدا ہوں۔ کچھ خاندانوں نے طے کیا ہے کہ، آئندہ تعطیلات بھارت کے کسی خوبصورت علاقے میں گزاریں گے، اور کئی نوجوانوں نے ’میڈ اِن انڈیا‘ شادیوں کا فیصلہ کیا ہے، یعنی شادی کی تمام تیاریاں اور خریداری بھارت میں تیار شدہ اشیا سے کی جائے گی۔

مودی نے کہا کہ، یہی ہے بھارت کی اصل طاقت، عوام کی شمولیت، اُن کا جذبہ اور اُن کا فخر۔ اُنہوں نے اپیل کی کہ، ہم سب ایک عہد کریں کہ، جہاں جہاں ممکن ہو، بھارت میں بنی اشیا کو ترجیح دیں۔ اُن کے بقول، یہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں، بلکہ قومی تعمیر میں شراکت کا ایک عزم ہے، اور ہر چھوٹا قدم بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں