گزشتہ چند سالوں میں ہم نے اپنے اردگرد بہت سے ایسے حکمرانوں کو ذلت آمیز انجام سے دوچار ہوتے دیکھا، جو یہ سمجھتے تھے کہ ان کی آہنی حکومت کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اپنے ملکوں میں اپوزیشن کو کچلا، اختلاف رائے کو جرم بنا دیا، اور ہر مخالف آواز کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ اقتدار کے نشے میں انہوں نے نہ اقدار کی پرواہ کی، نہ آئین کی حرمت باقی رکھی۔ سیکورٹی اداروں اور عدالتوں کو ساتھ ملا کر وہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے رہے ۔
آئیے، سب سے پہلے بنگلہ دیش کا ذکر کرتے ہیں ،جہاں اقتدار کے اسی غرور نے ایک تاریخ رقم کی۔شیخ حسینہ واجد 2009 سے اقتدار میں تھیں۔ طویل ترین حکمرانی اور حزبِ اختلاف پر آہنی گرفت ،یہی ان کا طرزِ حکومت تھا۔ ان کی حکومت نے میڈیا پر قدغن لگائی، اپوزیشن جماعتوں کے خلاف مقدمات چلائے، اور خود کو ناقابلِ شکست سمجھ لیا۔ مگر جولائی 2024 میں طلبہ احتجاج نے وہ بنیاد ہلا دی جس پر حسینہ واجد کی حکومت کھڑی تھی۔ کوٹہ سسٹم کے ایک عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج نے ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ پولیس کی سختی، گرفتاریوں اور تشدد نے آگ کو ہوا دی۔ بالآخر پانچ اگست 2024 کو شیخ حسینہ نے استعفیٰ دیا اور ملک سے فرار ہوگئیں ۔انہیں بھارت میں پناہ لینا پڑی۔ پندرہ سالہ اقتدار عوامی غصے کے طوفان میں بہہ گیا۔
بنگلہ دیش ہی کی طرح راجپکشا خاندان دو دہائیوں سے سری لنکا کی سیاست کا محور تھا۔ گوٹابایا راجپکشا 2019 میں صدر بنے اور خود کو ’’قومی محافظ‘‘ کے طور پر پیش کرتے رہے۔ مگر 2022 تک معاشی بدحالی، کرنسی کی گراوٹ اور ایندھن کی قلت نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ یہ احتجاج صرف مہنگائی کے خلاف نہیں تھا ۔ یہ حکمرانوں کی بدعنوانی، اقربا پروری اور غلط پالیسیوں کے خلاف اعلانِ بغاوت تھا۔ عوام نے صدارتی محل پر دھاوا بولا۔ گوٹابایا راجپکشا نے اقتدار چھوڑا، فوجی طیارے سے ملک سے فرار ہوئے اور بعد ازاں استعفیٰ دے دیا۔
ادھر افغانستان میں امریکہ کے زیرِ سایہ قائم افغان حکومت دو دہائیوں تک اپنی عوام سے زیادہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتی رہی۔ صدر اشرف غنی 2014 میں برسرِ اقتدار آئے اور خود کو جدید افغانستان کا معمار کہلواتے رہے۔ مگر 2021 میں جیسے ہی امریکی فوجیں واپس ہوئیں، طالبان کی پیش قدمی نے حکومت کی اصل بنیاد ظاہر کر دی۔ دو ہفتوں میں پورا نظام زمین بوس ہو گیا۔ کابل کے ایوانِ صدر سے طیارہ اڑا اور اشرف غنی اپنے اقتدار سمیت ملک چھوڑ گئے اور تاجکستان میں پناہ گزین ہوئے ۔یہ اس نظام کا انجام تھا جو بندوقوں کے سائے میں قائم ہوا تھا اور اسے عوامی حمایت حاصل نہیں تھی۔
اگر شام کا زکر کیا جائے تو اسد خاندان 1971 سے شام پر حکمران تھا۔ بشارالاسد نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی جگہ لی اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ اقتدار پر قابض رہے۔ اپوزیشن کو کچلنا، مظاہروں کو طاقت سے دبانا، اور عوامی آواز کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینا — یہی ان کا سیاسی ہتھیار تھا۔ مگر 2024 کے آخر میں حالات بدل گئے۔ شمالی اور مشرقی شام میں باغیوں کی پیش قدمی تیز ہوئی، روس نے بھی فوجی امداد محدود کر دی۔ دسمبر میں دمشق حکومت کا کنٹرول ختم ہوا اور بشارالاسد اپنے خاندان سمیت روس فرار ہوگئے۔ یوں پچاس سالہ اسدی عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔
گزشتہ پانچ برسوں کی یہ تمام کہانیاں ہمیں ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ اقتدار کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ خواہ وہ حسینہ واجد کی سول آمریت ہو، راجپکشا کی خاندانی حکومت، بشارالاسد کی موروثی آمریت یا افغانستان کی امریکی ساختہ جمہوریت ، ہر اقتدار کا ایک دن ہوتا ہے۔ طاقت کے نشے میں عوامی آواز کو دبانے والے ہمیشہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب عوام کا صبر ٹوٹتا ہے تو پھر بندوقیں، باڑیں اور محلات کچھ نہیں بچا پاتے۔ اقتدار کا زوال کوئی حادثہ نہیں ،یہ تاریخ کا تسلسل ہے۔ جو آج طاقتور ہیں، کل وہ بھی ماضی کے مزار کا حصہ ہوں گے۔ بس یہی یاد رکھنا کافی ہے کہ تخت رہ جاتے ہیں، بادشاہ نہیں۔