رواں مالی سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں غذائی برآمدات میں 35 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی: ادارہ شماریات پاکستان

اسلام آباد میں پاکستان کے ادارۂ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے پہلے سات ماہ، یعنی جولائی سے جنوری تک، ٹیکسٹائل برآمدات میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات ایک اعشاریہ پچیس فیصد بڑھ کر 10 ارب 90 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ حجم 10 ارب 77 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اس اضافے میں بنیادی کردار نِٹ ویئر، بیڈ ویئر، تیار ملبوسات اور سوتی کپڑے کے شعبوں نے ادا کیا۔ نِٹ ویئر کی برآمدات بڑھ کر 3 ارب 9 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں جو گزشتہ سال 3 ارب 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھیں۔ بیڈ ویئر کی برآمدات 1 ارب 92 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جو پہلے 1 ارب 86 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں۔ اسی طرح تیار ملبوسات کی برآمدات بھی بڑھ کر 2 ارب 58 کروڑ ڈالر ہو گئیں، جو گزشتہ سال 2 ارب 44 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھیں۔

تاہم سوتی کپڑے کی برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی جو کم ہو کر 99 کروڑ 21 لاکھ 70 ہزار ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1 ارب 12 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھیں۔ اسی طرح تیار شدہ دیگر مصنوعات کی برآمدات بھی نمایاں کم ہو کر 46 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جو پہلے 66 کروڑ 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر تھیں۔

دوسری جانب غذائی اجناس کی برآمدات میں نمایاں کمی سامنے آئی۔ اس شعبے کی برآمدات میں 35 اعشاریہ 29 فیصد کمی ہوئی اور یہ 2 ارب 98 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک محدود رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 4 ارب 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس کمی کی بڑی وجہ چاول کی برآمدات میں 40 اعشاریہ 51 فیصد کمی رہی، جو کم ہو کر 1 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 2 ارب 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں۔

باسمتی چاول کی برآمدات 6 اعشاریہ 62 فیصد کم ہو کر 47 کروڑ 77 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ آئی آر آر آئی-6 چاول کی برآمدات میں 50 اعشاریہ 9 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی اور یہ 82 کروڑ 78 لاکھ ڈالر تک گر گئیں، جو گزشتہ سال 1 ارب 62 کروڑ ڈالر تھیں۔

مجموعی طور پر جولائی تا جنوری 2025-26 کے دوران پاکستان کی کل برآمدات 18 ارب 19 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 19 ارب 58 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھیں۔ اس طرح مجموعی برآمدات میں 7 اعشاریہ 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب درآمدات میں 9 اعشاریہ 49 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 40 ارب 26 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں درآمدات 36 ارب 77 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھیں۔ درآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ توانائی کی بڑھتی ضروریات قرار دی جا رہی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 9 ارب 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو درآمدی توانائی پر انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔

خوراک کی درآمدات میں بھی 19 اعشاریہ 26 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 5 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پام آئل کی درآمدات میں 24 اعشاریہ 7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ چینی کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جو صرف 2 لاکھ 18 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 17 کروڑ 46 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں۔

اسی طرح دھاتوں کی درآمدات میں 18 اعشاریہ 8 فیصد اضافہ ہو کر 3 ارب 88 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ کھاد، زرعی ادویات اور کیمیائی اشیا سمیت زرعی شعبے سے متعلق درآمدات 8 اعشاریہ 9 فیصد اضافے کے ساتھ 6 ارب 27 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ربڑ مصنوعات، ٹائر اور لکڑی سمیت دیگر اشیا کی درآمدات بھی بڑھ کر مجموعی طور پر 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو گئیں۔

ان تمام اعداد و شمار کے نتیجے میں جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران ملک کا ادائیگیوں کا توازن شدید خسارے کا شکار رہا، جو منفی 22 ارب 7 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق افغانستان کے ساتھ گزشتہ چار ماہ سے جاری تجارتی بندش نے بھی اس مالی عدم توازن کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں