ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں حکومت نے کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی میں یکم اپریل تک توسیع کر دی ہے۔ گورنر آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ، یہ پابندی یکم اپریل کی رات 11 بج کر 59 منٹ تک برقرار رہے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ، یہ اقدام شہریوں کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاہم اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے آزادی اظہار پر قدغن قرار دے رہی ہیں۔
انقرہ کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر بڑے شہروں، استنبول اور مغربی شہر ازمیر میں بھی احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مگر ان حکومتی اقدامات کے باوجود، اپوزیشن کی جانب سے بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں، جن میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل کر حکومت مخالف نعرے لگا رہے ہیں۔
یہ احتجاج خاص طور پر 19 مارچ کے بعد شدت اختیار کر گئے جب ملک کی اہم اپوزیشن جماعت کے رہنما اور میئر استنبول اکرم امام اوغلو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا، اور مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جنہیں منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے سخت اقدامات کیے۔
حکومت نے نہ صرف سڑکوں پر احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ہے، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی سخت کنٹرول نافذ کر دیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق، آن لائن پلیٹ فارمز پر حکومت مخالف بیانات اور احتجاج کی کال دینے والے صارفین کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے، اور مزید افراد کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ، یہ تمام اقدامات قانون اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان فیصلوں کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ، ترکیہ میں حالیہ صورتحال ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت نے مظاہرین کے خلاف مزید سخت پالیسیاں اپنائیں، تو ملک میں سیاسی بدامنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ترکیہ کی داخلی صورتحال اس وقت کافی غیر یقینی ہے، اور آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب اپوزیشن حکومت کے اقدامات کے خلاف شدید مزاحمت کر رہی ہے۔