بعض لمحے، بعض کتابیں، کہانیاں اور کبھی کوئی خاص واقعہ انسان کی زندگی اور تقدیر بدل دیتا ہے۔ یہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ لاطینی امریکہ کے مشہور ملک کولمبیا کے نوجوان کے لئے ایک کتاب اور کہانی حیران کن ثابت ہوئی۔ اسے شاعری سے دلچسپی تھی،کہانیاں کم ہی پڑھتا تھا اور کہانی لکھنے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ایک رات اس نے ایک ایسی کہانی پڑھی جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کہانی یوں بھی لکھی جا سکتی ہے۔ رات بھر وہ کہانی اس کے خوابوں میں گھومتی رہی۔ صبح اٹھتے ہی اس نے یہ طے کیا کہ رائٹر بننا ہے۔ اسی شام اس نے کاغذات کا ایک پلندہ اٹھایا، قلم پکڑا اور اپنی پہلی کہانی لکھنا شروع کر دی۔
یہ دنیا کے ایک عظیم لکھاری، نوبیل انعام یافتہ ادیب گبرائل گارشیا مارکیز کے عظیم تخلیقی، ادبی سفر کا آغاز تھا۔
اس سفر کے پیچھے مگر بہت کچھ موجود تھا۔ اداسی اور تنہائی سے لبریز کئی سال۔کولمبیا کے دارالحکومت بوگوتا میں گزرے ماہ وسال۔
وہ نوجوان تیرہ سال کی عمر میں ایک دورافتادہ ساحلی علاقے سے بوگاتا آیا تھا اور خاصا عرصہ شہر کی گہماگہمی اور سرد، سفاک فضا میں ایڈجسٹ ہی نہیں کر سکا۔ اپنے پہلے دن ٹرین سے اترنے کے بعد خاصی دیر تک گم سم پلیٹ فارم پر کھڑا لوگوں کو تیزی سے اپنا سامان اٹھائے اپنی منزل مقصود کی جانب روانہ ہوتے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں، روتی آنکھوں وہ اپنے رہبر کے ساتھ اس سکول کی جانب روانہ ہوا،جہاں اسے تعلیم حاصل کرنی تھی۔
جس اسے ایک کونونٹ میں واقع سکول میں داخلہ ملا۔ گرم اور حبس آلود ساحلی علاقے میں اپنا بچپن گزارنے کے بعد نوخیز لڑکے کو یہ سرد شہر پسند نہیں آیا۔ اس نے کتابوںمیں پناہ لی۔ خوش قسمتی سے سکول میں اسے کلاسیک ادب سے روشناس کرایا گیا۔ میجک فائونٹین، ڈوما کا ’’تھری مسکیٹرز‘‘، وکٹر ہیوگو کا ’’ہنچ بیک آف نوترے دیم‘‘،دا کائونٹ آف مانٹی کرسٹواور دیگر بڑے ناول انہیں پڑھ کر سنائے جاتے۔ جلد ہی اس کی ملاقات چلی کے لیجنڈری شاعرپابلونروداکے مداحین کے گروپ سے ہوگئی۔ اسے ہسپانوی شاعری پڑھنے کا موقع ملا۔ یونیورسٹی میں اس نے قانون کے مضمون کا انتخاب کیا،مگر وہ قانونی کتب کے بجائے دن رات شاعری ہی پڑھتا رہتا۔
اور پھر وہ رات آگئی، جس نے اس کی تقدیر بدل دی۔
اسکے دوست نے فکشن کی کتاب پڑھنے کو دی۔ نصف شب کو اپنے خستہ حال بستر میں لیٹ کر اس نے کتاب پڑھنا شروع کی۔ یہ بیسیویں صدی کے سب سے بڑے علامتی فکشن نگار کافکا کا مختصر ناول میٹا مارفوسس (The Metamorphosis) تھا۔ کہانی بڑے ڈرامائی انداز میں یوں شروع ہوئی،’’جب ایک صبح گریگر سمسا اپنے مضطرب خوابوں سے بیدار ہوا تو اس نے خود کو اپنے بستر پر ایک بڑے سے کیڑے کے روپ میں پایا…‘‘ نوجوان پر لرزہ طاری ہوگیا، اس نے سوچا، اچھا توکہانی یوں بھی لکھی جا سکتی ہے۔
اگلے دو سال وہ دن رات کہانیاں ہی پڑھتا رہا۔ بے ترتیب لباس اوربڑھی ہوئی ڈاڑھی لئے،کتاب اٹھائے وہ رات بھر ایک کیفے سے دوسرے کیفے گھومتا رہتا،جہاں رات پڑ جائے،وہاں سو جاتا۔ اس نے دستئوفسکی،ٹالسٹائی، ڈکنز،فلابئیر،ستاں وال،بالزاک،زولا سمیت دیگر بڑے ناول نگاروں کو چاٹ ڈالا۔ بیس سال کی عمر میں وہ واپس ساحلی علاقوں کی جانب لوٹ گیا۔ کارتا حینا نامی ایک پرانے سے شہر کے اخبار ایل یونیورسل میں اس نے بطور سب ایڈیٹر ملازمت اختیار کرلی۔ دفتر کے بعد وہ باقی تمام وقت کہانیاں پڑھنے اور لکھنے میں گزار دیتا۔ اس شہر میں اس پر یونانی ادب مکنشف ہوا۔ سوفوکلیزکے ڈراموں نے اسے سحرزدہ کر دیا۔ یونانی ادب کے بعد اینگلوسکسین ادبیوں جیمس جوائس، ورجینا وولف اور ولیم فاکنز کی تحریروں نے اپنی طرف کھینچ لیا۔
برسوں بعد اس نے اپنے ایک طویل انٹرویو جو امرود کی مہک (Fragrance Of Guava) کے نام سے شائع ہوا، اس میں انکشاف کیا،’’مجھے کافکا نے پہلی بار بتایا کہ میں ادیب بن سکتا ہوں،مگر لکھنے کے ہنر کو سنوارنا اور اس کی باریکیاں سیکھنے میں ہیمنگوئے سے مدد ملی۔ ہیمنگوئے کی ایک نصحیت یہ تھی کہ افسانے کی بنیاد آئس برگ کی طرح،اس حصے پر قائم ہونی چاہیے،جو نظروں سے اوجھل ہو،یعنی وہ سارا غوروفکر،مطالعہ اور وہ سارے لوازمات جنہیں اکٹھا کیا گیا،لیکن افسانے میں براہ راست استعمال نہیں کیا گیا۔‘‘
اس کا اگلا پڑائو ایک اور شہر ’’بارنکیلا‘‘ تھا۔ یہاں کے اخبار ایل ہیرالدو میں اسے ملازمت مل گئی۔ یہاں اس کی ملاقات چند سرپھرے نوجوانوں سے ہوئی، ادب ان کا جنون تھا۔ یہ لوگ ان تھک مطالعے میں مصروف رہتے اور راتوں کو مے خانوںمیں مشروبات پیتے صبح تک ادب پر مباحث کرتے رہتے۔ ہر رات کئی ایسی کتابوں کاذکر آتا جو اس مضطرب نوجوان کے لئے نئی ہوتیں۔ اگلے روز وہ کتابیں اسے عاریتاً مل جاتیں۔ اس دوران اس کا لکھنے کا عمل جاری رہا۔ اخبار چھپ جانے کے بعد دفتر ویران ہوجاتا،مگر وہ بیٹھا اپنا پہلا ناول ’’پتوں کا شور‘‘ لکھتا رہتا۔
تھکن سے چور وہ جب اپنی کرسی سے اٹھتا تو صبح ہوچکی ہوتی۔ مسودہ بغل میں دبائے وہ ایک سستے ہوٹل کا رخ کرتا جہاں ایک چھوٹے ڈربہ نما کمرے میں اس کا پلنگ بچھا ہوتا۔ اس ناول کو پانچ سال تک کوئی بھی پبلشر اسے چھاپنے پرتیار نہ ہوا،ایک مشہور نقاد نے مسودہ پڑھنے کے بعد اسے کوئی اور پیشہ اختیارکرنے کا مشورہ دیا۔ حوصلہ ہارنے کے بجائے اس نے اپنا ناول خود شائع کیا،مگر اسے کچھ زیادہ پزیرائی نہ ملی۔
اس کے اخبارنے پھر اسے رپورٹنگ کے لئے یورپ روانہ کر دیا۔ وہ پیرس کے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں مقیم رہا۔ یہیں اس نے اپنا ناول ’’منحوس وقت‘‘اور ’’کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا‘‘تحریر کیا۔ انہی دنوں لے موندے اخبار میں ایک تین سطری خبر شائع ہوئی،جس میں بتایا گیا کہ اس کے اخبارکو حکومت نے بند کر دیا۔ نوجوان لکھاری کو ڈاک سے آنے والے چیک بند ہوگئے،جلد ہی فاقوں تک نوبت آپہنچی۔ اسے واپس وطن لوٹنا پڑا۔صحافتی سفر جاری رہا۔ کاراکاس میں قیام کے دوران اس نے اپنا ناولٹ’’بڑی ماما کا جنازہ‘‘لکھا۔ کچھ عرصہ اس نے نیویارک میں گزارا،جہاں اسے کیوبن جلا وطنوں سے خطرہ لاحق رہتا۔ وہ لکھتے ہوئے اپنے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ رکھتا۔ یہاں پر اس نے نظریاتی اختلاف پر ملازمت چھوڑدی اوربیوی اور ننھے بچے سمیت تنگدستی میں میکسیکو کا رخ کیا۔
وہیں پر اس نے اپنا پانچواں ناول لکھا،جس نے اس کی تقدیر بدل ڈالی۔ اپنے ایک ادیب دوست کو خط میں اس نے لکھا کہ میرا یہ ناول (لاطینی امریکی موسیقی کی مشہور طرز)بولیرو کی طرح ہے۔ اس کا ناول سپرہٹ رہا، فلمی اصطلاح میں وہ بلاک بسٹر ناول ثابت ہوا۔ ارجنٹائن کے سب سے بڑے پبلشر نے مسودہ پڑھنے کے بعد پہلا ایڈیشن بیس ہزار کی تعداد میں چھاپنے کا فیصلہ کیا، دو ہفتوں میں پورا ایڈیشن نکل گیا۔ اس کے درجنوں ایڈیشن چھاپے گئے۔ یہ ناول ’’تنہائی کے سو برس‘‘تھا،جس نے اسے ادب کا نوبیل انعام دلایا۔ پندرہ برس کی محنت کے بعد آخر کامیابی نے اس کے قدم چوم لئے تھے۔ یہ کہانی دور حاضر کے سب سے بڑے ناول نگار اور ادیب گبریل گارشیا مارکیز کی داستان حیات ہے۔ عالمی نقاد کہتے ہیں کہ مارکیز نے دور حاضر کے ہر ادیب پر کچھ نہ کچھ اثرات ضرور مرتب کئے۔
اپنی جوانی کا ایک حصہ عسرت میں گزارنے والے مارکیز کے لئے ’’تنہائی کے سو سال‘‘ کے بعد کی زندگی یکسر مختلف تھی۔ لاکھوں ڈالر کے کنٹریکٹ، لاتعداد ٹی وی ٹاک شوز اور اخبارات وجرائد میں انٹرویوز، پیچھے پھرتے نوجوان رپورٹرز۔ ایک پرآسائش گھر میکسیکو،ایک لگژری فلیٹ کولمبین دارالحکومت بوگوتا میں،ایک شاندار ولا فرانس میں۔
مارکیز سے درجنوں بار اخبار کے صحافیوں یا ٹی وی ٹاک شوز میں اینکرز نے یہ سوال پوچھا کہ آپ کو تنہائی کے سو سال کی راتوں رات حیران کن کامیابی کیسے لگی ؟
مارکیز ہمیشہ یہ سن کر مسکرا دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ تو صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ “تنہائی کے سو سال” نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا تھا، چند ہی ہفتوں میں ہزاروں کاپیاں فروخت ہوگئیں، اس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے اور رائٹر کے وارے نیارے ہوگئے، وغیرہ وغیرہ۔
مارکیز مسکرا کر سوال ٹال جاتا۔ پھر ایک روز اس نے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے بول دیا، “یاد رکھو، راتوں رات کامیابی کا کوئی وجود نہیں۔ انگریزی کا مشہور مقولہ ہے کہ راتوں رات تبدیلی آنے میں (بھی)بیس سال لگ جاتے ہیںIt Takes Twenty Years in an over night Change.
“تنہائی کے سو سال کے پیچھے میرے پندرہ برسوں کی محنت شاقہ شامل تھی۔ گرمیوں کی سینکڑوں حبس آلود اور سردیوں کی ٹھٹھرا دینے والے راتوں میں متواتر گھنٹوں لکھنے کی مشق۔کئی مہینے ایسے گزرے،جن میں فاقوں کے باوجود میں بیس بیس گھنٹے پڑھتا رہتا۔ ان سب کے ثمرات مجھے اپنے پانچویں ناول میں ملے۔ کامیابی کا راستہ کبھی مختصر نہیں ہوتا۔ کرشمے کبھی راتوں رات نہیں ہوتے۔ ان کی بھی ایک کہانی ہوتی ہے، آپ کو وہ کہانی بھی جاننی چاہیے۔ ”