سمرقند، 4 اپریل 2025 – ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میں یورپی یونین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لائن سمیت قازقستان، کرغزستان، ترکمانستان، تاجکستان اور میزبان ملک ازبکستان کے صدور و نمائندگان شریک ہوئے۔
تمام مہمان رہنما 3 اپریل کو سمرقند پہنچے، جہاں ازبک حکومت کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انہوں نے سمرقند کے تاریخی مقامات ریگستان اسکوائر اور شاہ زندہ کمپلیکس کا دورہ بھی کیا، جو اجلاس سے پہلے مہمانوں کے اعزاز میں ترتیب دی گئی ثقافتی سرگرمی کا حصہ تھا۔
سربراہی اجلاس کے آغاز پر ازبک صدر شوکت مرزائیوف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ اجلاس ہمارے خطے کو یورپ سے جوڑنے، پائیدار ترقی، اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کا مشترکہ موقع فراہم کرتا ہے۔” انہوں نے علاقائی تعاون، نوجوانوں کی ترقی، گرین ٹرانزیشن، اور افغانستان سے متعلقہ چیلنجز پر کھل کر بات کی۔
اس موقع پر یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لائن نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا: “یورپی یونین وسطی ایشیا کو ایک اہم اور قابل اعتماد شراکت دار سمجھتی ہے۔ ہم ایسے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گے جو پائیدار ہوں، خطے کے عوام کے فائدے میں ہوں، اور آزادانہ تجارت اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک جدید “راستہ” بنانے کی ضرورت ہے جو مشرق اور مغرب کو جوڑے، اور جس کا دار و مدار ٹرانسپورٹ، توانائی، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور سبز ٹیکنالوجی پر ہو۔
اجلاس میں 12 ارب یورو پر مشتمل ‘گلوبل گیٹ وے انویسٹمنٹ پیکیج’ کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت مذکورہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس اقدام کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک متوازن اور شفاف متبادل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران ایک خصوصی سیشن “کلائمیٹ ایکشن اینڈ ریزیلینس” کے عنوان سے بھی منعقد ہوا، جس میں خطے میں بڑھتے ہوئے موسمی خطرات، پانی کے وسائل کی تقسیم، اور قابلِ تجدید توانائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یورپی یونین نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور گرین انرجی منصوبوں میں شراکت داری بڑھانے کی پیشکش کی۔
اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تعاون کو مستقبل میں ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل دی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر ازبک وزیرِ اعظم عبدللہ عارفوف نے تمام وفود کو باضابطہ طور پر رخصت کیا اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اجلاس خطے میں دیرپا استحکام اور ترقی کا نیا آغاز ثابت ہوگا.