ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے انٹیلی جنس کمانڈر ماجد خادمی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک دلیر اور فرض شناس سپاہی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کو نشانہ بنایا جانا قابلِ مذمت ہے، تاہم ایسے اقدامات سے ایران کی مسلح افواج کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن مختلف حربے استعمال کر رہا ہے، مگر ایران کے خلاف اس کی کوششیں بار بار ناکامی سے دوچار ہو رہی ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کی جانب سے ایران کو “پتھر کے دور” میں واپس دھکیلنے کی دھمکی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ممالک اہم شخصیات کو نشانہ بنا کر ایران کی دفاعی صلاحیت کو کمزور نہیں کر سکتے، اور آخرکار کامیابی ایران کی ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے جیسے پل، پاور پلانٹس اور تعلیمی اداروں پر حملے کھلی جنگی جارحیت اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔