ایک نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ، اگر خواتین اپنی غذا میں تبدیلی لائیں، تو وہ اینڈومیٹرایوسس کے تکلیف دہ درد میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں۔ اینڈومیٹرایوسس ایک عام مگر پیچیدہ بیماری ہے جو دنیا بھر میں تقریبا ہر دس میں سے ایک خاتون کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں بچے دانی سے مشابہہ خلیے جسم کے دوسرے حصوں میں اگنے لگتے ہیں، جیسے ویجائنا، نافچہ، پھیپھڑے، اور بعض نایاب کیسز میں دماغ تک۔ حیرت انگیز طور پر تلی وہ واحد عضو ہے جہاں یہ خلیے کبھی نہیں پائے گئے۔
اس بیماری کی علامات میں شدید پیٹ درد، تھکاوٹ، اور بہت زیادہ تکلیف دہ ماہواری شامل ہیں۔ بدقسمتی سے اس بیماری کی تشخیص اور مکمل علاج اب بھی ایک چیلنج ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں، جہاں طبی سہولیات محدود ہیں۔
اس تناظر میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف انڈنبرا کے محققین نے ایک تحقیقی سروے کیا جس میں 2,833 خواتین کو شامل کیا گیا۔ ان تمام خواتین کو اینڈومیٹرایوسس تھا، اور تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ، غذا میں تبدیلی اس بیماری کے درد پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔ سروے کے نتائج نہایت حوصلہ افزا تھے۔
زیادہ تر خواتین نے بتایا کہ، کیفین، الکوحل، اور گولیٹن والی غذاؤں نے ان کے درد کو بڑھا دیا، جبکہ سبزیاں، پھل، دالیں، مچھلی اور کچھ دودھ سے بنی اشیاء کھانے سے ان کے درد میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ خواتین نے یہ بھی بتایا کہ، شراب نوشی کو ترک کرنے یا محدود کرنے سے درد میں سب سے زیادہ کمی محسوس ہوئی، جبکہ کیفین اور میٹھے مشروبات کے کم استعمال سے بھی فرق پڑا۔ حتیٰ کہ، سافٹ ڈرنکس، ٹافیز، کیک اور بسکٹ جیسی میٹھی اشیاء کو محدود کرنے سے بھی تقریبا41 فیصد خواتین کو آرام ملا۔ اسی طرح فاسٹ فوڈ اور تلی ہوئی اشیاء کو کم کرنے سے بھی درد میں 38 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ، اینڈومیٹرایوسس کی شکار خواتین کو چاہیے کہ، وہ ایک وقت میں صرف ایک غذائی تبدیلی کریں، تاکہ وہ جان سکیں کہ، کون سی چیز ان کے لیے فائدہ مند ہے اور کون سی نقصان دہ۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ، غذائیت اور اس بیماری کے تعلق پر مزید مطالعے کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں غیر ادویاتی طریقے سے بھی اس بیماری کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔