بھارت میں تعلیم یافتہ اور برسرِروزگار افراد پر مشتمل متوسط طبقہ تیزی سے بڑھتے معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جہاں آمدنی میں محدود اضافہ اور بڑھتی مہنگائی نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے لاکھوں ملازمتوں کو متاثر کیا ہے۔ ممبئی کے اندر ایک کنٹرول روم میں صرف 100 افراد ایک ایسے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں جسے کبھی 60 ہزار سکیورٹی گارڈز نے انجام دیا۔ یہ بدلتی ہوئی معیشت کی ایک واضح مثال ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، سفید پوش ملازمتوں میں اضافہ جو 2020 سے پہلے 11 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مصنوعی ذہانت کے آنے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، تاہم اب اس میں تیزی آ گئی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق، 2031 تک مصنوعی ذہانت آئی ٹی اور کسٹمر سروس کے شعبوں میں تقریبا 30 لاکھ ملازمتیں ختم کر سکتی ہے، جبکہ ہر سال تقریبا 80 لاکھ نئے گریجویٹس روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال سے معروف تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل طلبہ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی جیسے ادارے، جہاں سے ڈگری کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، اب وہاں سے فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ بے روزگار ہیں۔
دوسری جانب متوسط طبقے کی آمدنی میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق خوراک، صحت، تعلیم اور رہائش کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر متوسط طبقے کے لیے زندگی کی لاگت تقریبا ہر آٹھ سال میں دگنی ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایک ایسا خاندان جو 2016 میں 10 لاکھ روپے سالانہ میں آرام سے زندگی گزار رہا تھا، اب اسی معیار زندگی کے لیے تقریبا 20 لاکھ روپے درکار ہیں، جبکہ آمدنی اس رفتار سے نہیں بڑھی۔
اس خلا کو پورا کرنے کے لیے لوگ قرضوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اندازتاً بھارت کے نصف خاندان ذاتی قرض لے چکے ہیں اور بہت سے افراد اپنی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کر رہے ہیں۔ بعض افراد قرض کے جال میں پھنس چکے ہیں جہاں نئے قرض سے پرانا قرض ادا کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتِ حال کے باعث صارفین کے اخراجات میں کمی آ رہی ہے، جس سے معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ بھارت کی معیشت کا بڑا انحصار گھریلو اخراجات پر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا ترقیاتی ماڈل، جو متوسط طبقے کی خریداری پر مبنی تھا، اب دباؤ کا شکار ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں معاشی ترقی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔