راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ میں ایک گزرگاہ کے کنارے درختوں کے سائے تلے ‘فوڈ ٹرک’ لوگوں کو نت نئے کھانے کھلاتا ہے۔ یہاں کا ماحول قدرے بہتر اور پر سکون دکھائی دیتا ہے۔ جا بجا لوگوں کی نشست گاہیں ہیں۔ اس پر مستزاد ایک کونے میں کتب ریک رکھا گیا ہے، جو کتب بینی کے شوقین اور ادب سے وابستہ افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اس چھوٹے مگر بامقصد سیٹ اپ کو کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان لکھاری مسلم انصاری چلا رہے ہیں۔
مسلم انصاری کا بنیادی تعلق کراچی سے ہے لیکن راولپنڈی میں روزگار اور بعد ازاں کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ اردو میں ایم اے کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور نجی ٹی وی کے مانیٹرنگ ڈیسک پر کام کیا لیکن کاروبار کی طرف مائل اپنے ذہن کی وجہ سے جلد ہی اس نوکری کو الوداع کہنا پڑا۔
راولپنڈی کمرشل مارکیٹ میں ‘فوڈ پاتھ’ راہ چلتے درختوں کے سائے تلے ایک چھوٹے سےمقام پر موجود ڈھابہ ہے، جہاں فوڈ ٹرک کے ذریعے کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ مسلم انصاری خود بھی کھانا بنانا جانتے ہیں اور ان کے کھانوں کی فہرست زیادہ تر چینی کھانوں پر مشتمل ہے۔
تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے مسلم انصاری نے کہا کہ ‘ہم ایک روز آئٹم کی تلاش میں نکلے تھے کہ فٹ پاتھ پر یہ جگہ مل گئی۔ ابتدائی طور پر اس کا نام بھی فٹ پاتھ ہی تھا جو بعد میں’ فوڈ پاتھ’ بن گیا۔ کمرشل جگہ ہونے کے باوجود ‘فوڈ پاتھ’ ایک پرسکون جگہ کا مظہر ہے۔ ‘
مسلم انصاری کا بنیادی کام لکھنا پڑھنا ہی ہے۔ انہیں عمومی طور پر لوگ اسی مناسبت سے جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘میرا ارادہ تھا کہ اپنے کاروبار کے ساتھ پڑھنے لکھنے کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور شامل کروں گا۔ میری رہائش گاہ پر تقریبا تیس سے چالیس کتابیں موجود تھیں۔ میں نے وہی کتابیں اٹھا کر یہاں ایک ریک کے اوپر رکھ دی تاکہ کھانا بننے کے انتظار میں گاہک اس دوران کتاب کے چند اوراق پڑھ لیں۔’
ان کے مطابق ہم کھانا براہ راست فورا ہی بنا دیتے ہیں لیکن پھر بھی اس میں پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں۔ اس لیے اس دوران اگر کوئی چند صفحات پڑھ لیتا ہے تو کم از کم اس کا وقت ضائع نہیں ہوگا۔ ہمارے اس کتب ریک میں افسانے، ناول اور نان فکشن موجود ہیں۔ ہر کوئی اپنی پسند اور ذائقے کے حساب سے کتب پڑھ سکتا ہے۔
مسلم انصاری کویہ کام شروع کیے ایک مہینے کا عرصہ ہوا۔ ا س لیے اب تک ان کے پاس گاہکوں کے علاوہ زیادہ تردوست و احباب ہی آتے ہیں۔ ان میں اکثر لوگ کتب سے ہی جڑے ہوئے ہیں، اس وجہ سے وہ اپنی دلچسپی کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ہم جماعت بھی ویک اینڈ پر یہاں آکر محفل جماتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ‘میں نے اکثر دیکھا ہے کہ کوئی تنہا شخص کھانا کھانے آتا ہے تو ضرور کوئی نہ کوئی کتاب لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہاں ادبی بیٹھک بھی لگ جاتی ہے۔ احمد فرہاد اور ان کے شعراء ساتھی اکثر یہاں آکر اپنی نشست کرلیتے ہیں۔ ‘
مسلم انصاری اس کاروبار میں کامیابی کے بعد ساتھ ہی کتابیں بیچنے کا کام بھی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ’ اس میں خصوصی آفر بھی ہوگی۔ اگر کوئی ہزار روپے کا کھانا کھائے گا تو اسے کتابوں پر پچاس فیصد رعایت دی جائے گی۔’
انہوں نے مزید کہا کہ’ کھانے کا معاملہ فی الحال اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا ہے لیکن کتابوں کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہے۔ ایک بات خوش آئند ہے کہ جو بھی کھانے بیٹھتا ہے، اس کی نظر کتابوں پر پڑتی ضرور ہے۔ یہاں سے فارغ ہو کر وہ کتب ریک کے قریب بھی لازمی جاتا ہے۔’
مسلم انصاری نے اپنے استاد کی تحریک پر ڈائری لکھنی شروع کی جہاں سے یہ شوق پروان چڑھا۔ اپنی حیات میں کچھ غیر معمولی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر دوسرے لوگوں کی باتیں لکھتے تھے۔ مسلم انصاری دو کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔
نظم و نثر پر مشتمل ان کی پہلی کتاب ‘خاموش دریچے’ کے عنوان سے 2017 میں شائع ہوئی جبکہ 2023 میں دوسری کتاب ‘کابوس’ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کتاب پر ان کو کافی پذیرائی ملی اور چھ طلبہ نے اس پر اپنے مقالے لکھے۔ اس کتاب پر انہیں ‘بہترین فکشن ‘ کا انعام بھی ملا۔