تمام مسیحی دنیا کی طرح آج جرمنی میں بھی ایسٹر منایا جا رہا ہے۔یہ تہوار گڈ فرائیڈے کے سوگ کے تیسرے دن منایا جاتا ہے۔ جرمن میں اسے اوسترن کہتے ہیں۔ یہ مسیحیت میں قدیم ترین اور اہم ترین تہوار ہے۔ گڈ فرائیڈے موت اور دکھ کی علامت ہے، تو ایسٹر حیاتِ نو یا نئی زندگی کی۔مسیحی عقیدے کی رو سے مصلوب کیے جانے کے تیسرے دن حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ زندہ ہو کر آسمانوں پر چلے گئے تھے۔ انگریزی لفظ ایسٹر اورجرمن اوسترن کی لسانیاتی تاریخ جرمن دیومالا کی قدیم دیوی اوستارا (Ostara) سے ملتی ہے، جو بہار اور روشنی کی دیوی سمجھی جاتی تھی، اسی وجہ سے یہ تہوار ہمیشہ موسمِ بہار میں آتا ہے، جو مردہ حالت سے دوبارہ زندہ ہونے کی علامت ہے۔
ایسٹر کی مذہبی اور ثقافتی رسومات کے حوالے سے علمی تجسس اور قریبی مشاہدے کی غرض سے آج اس سلسلے میں گوئٹنگن کے تاریخی سینٹ جوہانس چرچ کی خصوصی ایسٹر تقریب میں شرکت ہوئی۔ یہ چرچ نہ صرف اپنی تعمیراتی قدامت بلکہ اپنی علمی و مذہبی روایات کے لیے مشہور ہے۔یہ اس شہر کا سب سے پرانا چرچ ہے، جس کی بنیاد 1272ء میں ایک قدیم رومن طرز کی عمارت پر رکھی گئی تھی۔ اس کی موجودہ گوتھک (Gothic) طرز کی عمارت 14ویں صدی میں مکمل ہوئی۔ اس چرچ کی خاص پہچان اس کے دو مختلف اونچائی والے مینار ہیں (شمالی مینار 62 میٹر اور جنوبی 56.5 میٹر)۔ تاریخی طور پر یہ شہر کا مرکزی واچ ٹاوررہا ہے، جہاں سے محافظ پورے شہر پر نظر رکھتے تھے۔ 1529ء میں اصلاحِ مذہب یا ریفرمیشن کے دوران یہ چرچ کیتھولک سے لوتھرن یاپروٹسٹنٹ بن گیا۔
تقریب کے دوران میں دیگر رسومات ، مذہبی گیتوں اور دعاؤں کے علاوہ ایک خاص سماجی اور مذہبی روایت کو قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ۔ یہ روایت عشائے ربانی ہے۔ ایک حلقے کی صورت میں موجود شرکا کو نہایت عقیدت کے ساتھ ایک سفید بتاسا نما ٹکڑا (Hostie) اور سرخ انگور کا رس (Traubensaft) پیش کیا گیا۔ عیسائی عقیدے میں یہ روٹی اور رس حضرت مسیح کی قربانی اور ان کے ساتھ روحانی تعلق کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ کیتھولک چرچ میں اسےحضرت مسیح کے جسم اور خون میں حقیقی تبدیلی (Transubstantiation) مانا جاتا اورسرخ شراب استعمال کی جاتی ہے، کیتھولک نظریے میں جب اس موقع پر پادری دعا پڑھتا ہے تو وہ سرخ شراب واقعی روحانی طور پر حضرت مسیح کا خون بن جاتی ہے، لیکن پروٹسٹنٹ اسے ایک روحانی یادگار سمجھتے ہیں اور شراب کی جگہ انگور کا رس استعمال کرتے ہیں ، یوں شراب نہ پینے والے لوگ بھی اس میں شریک ہو سکتے ہیں۔
جرمنی میں ایسٹر کی مختلف عوامی و سماجی روایات اور ثقافت کو دیکھیں تو بہت سی دل چسپ چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ مثلاً اوسترائیر ( Ostereier ) یا ایسٹر ایگز یعنی ایسٹر کے انڈے نئی زندگی کی علامت ہیں۔ جرمنی میں انڈوں کو رنگنے اور سجانے کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ چرچ کی روایت میں یہ خالی قبر کی علامت ہے، جس سے زندگی برآمد ہوئی۔ ایسٹر کا خرگوش جسے اوستر ہازے(Osterhase) کہا جاتا ، اور نئی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس کی اصل جرمن ہی ہے، جس کا ذکر پہلے پہل مشہور جرمن طبیب اور ہائیڈل برگ یونی ورسٹی کے پروفیسرجارج فرانک وون فرانکناؤ (Georg Franck von Franckenau, 1643-1704) کے یہاں ان کی 1882ء کی ایک تحریر میں ملتا ہے۔ جرمن فوک ادب میں یہ خرگوش اچھے بچوں کے لیے گھاس سے بنے ہوئے گھونسلوں میں رنگین انڈے، چاکلیٹ اور دیگر تحائف وغیرہ چھپا جاتا تھا۔ جرمنی میں بیشتر دکانوں اور بیکری پر سنہری کاغذ میں لپٹے ہوئے چاکلیٹ کے خرگوش نظر آتے ہیں، جو اس تہوار کی سب سے مقبول سوغات سمجھے جاتے ہیں۔ قدیم جرمن قبائل بہار کی آمد پر آگ جلاتے تھے، جو سردیوں کی نحوست کو ختم کرتی اور آمدِ بہار کی نوید دیتی تھی، یہ روایت اوستر فویئر (Osterfeuer) یا ایسٹر کی آگ میں ڈھل گئی ، اور جناب مسیح کے نور اور موت پر زندگی کی فتح کی علامت بن گئی ۔ایسٹر کی شام محلے یا گاؤں کے لوگ ایک کھلی جگہ پر لکڑیوں کا بڑا ڈھیر جمع کر کے آگ لگاتے ، اس کے گرد جمع ہوتے اور روایتی کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں۔
ان جرمن روایات کے تناظر میں مذہبی ہم آہنگی کے زاویے سے دیکھیں تو کئی مشترکات نکل آئیں گی۔ مثلا ایسٹر زندگی اور امید کا پیغام ہے، اور زندگی اور امید اسلام کے نقطۂ نظر سے بھی خصوصی اہمیت رکھنے والی چیزیں ہیں۔ سلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا میں حضرت مسیح کی ولادت، وفات اور دوبارہ جی اٹھناور ان مع العسر یسرا میں تنگی کے بعد آسانی وغیرہ کے قرآنی بیانات کے حوالے سے دیکھیں تو موت سے زندگی کی جنگ، تاریکی کے خلاف روشنی کی فتح، مایوسی کے خلاف امید کی کامیابی مشترک اقدار دکھائی جا سکتی ہیں۔ انسانیت کو یہ پیغام دیا جس سکتا ہے کہ ظلم اور مایوسی نہیں زندگی اور امید کو غالب آنا چاہیے۔
یونیورسٹی یا کسی بھی علمی ادارے کے اکیڈیمک ماحول میں، جہاں لوگوں کو علم اور سچائی کی تلاش میں رہنا چاہیے، ایسے مواقع ہم ایک دوسرے کے عقائد و افکار اور روایات کے سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے محسوص کیا جا سکتا ہے کہ تنوع تصادم کا سبب نہیں، انسانیت کے رنگا رنگ گل دستے کی خوبصورتی ہے، جب ہم ایک دوسرے کی خوشیوں اور روایات کا احترام کرتے ہیں، تو فی الواقع امن کی کھیتی کو سیراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جو آج کے حالات میں خشک خشک ہوئی جاتی ہے۔